ملیرایکسپریس وے کے قریب اراضی سے متعلق فیصلہ محفوظ

ملیرایکسپریس وے کے قریب اراضی سے متعلق فیصلہ محفوظ

تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد درخواست پر فیصلہ جاری کیا جائے گا،ہائیکورٹسپریم کورٹ متبادل اراضی کی فراہمی پر پابندی عائد کرچکی ،دوران سماعت ریمارکس

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے ملیر ایکسپریس وے کے قریب سرکار کی جانب سے حاصل کی گئی اراضی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ متبادل اراضی کی فراہمی پر پابندی عائد کرچکی ہے اور حاصل کی گئی زمین کے بدلے صرف ادائیگی کی جاسکتی ہے ۔ سماعت کے دوران وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن تک متبادل اراضی کی فراہمی پر پابندی عائد کی تھی، حکومت نے چار ایکڑ متبادل اراضی فراہم کی۔ فراہم کی گئی زمین حساس مقام پر ہے اور ان کا مؤکل اسے سرینڈر کرنے کے لیے تیار ہے ۔ وکیل کے مطابق مجموعی طور پر 12 ایکڑ اراضی کا متبادل ملنا باقی ہے جبکہ دی گئی چار ایکڑ زمین بھی کسی اور جگہ فراہم کی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اچھا ہے آپ کو متبادل زمین کے ساتھ پروٹیکشن بھی دی گئی ہے ۔ عدالت نے ناظر کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حاصل کی گئی اراضی کبھی درخواست گزار کے قبضے میں نہیں رہی، پھر کس بنیاد پر متبادل زمین دی گئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے بورڈ آف ریونیو کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ زمین سرکار کی ہے یا درخواست گزار کی؟ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے سرکاری زمین کو ذاتی سمجھ رکھا ہے جسے چاہیں دے دیں۔وکیلِ درخواست گزار نے کہا کہ زمین سے متعلق عدالتی کارروائی پہلے ہی ہوچکی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد درخواست پر فیصلہ جاری کیا جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں