پی ایم اے کی ٹی بی کنٹرول کی بگڑتی صورتحال پر تشویش
زمینی حقائق زندگی بچانے والی ادویات کی شدید قلت کی نشاندہی کرتے ہیںبالغ مریضوں کے لیے معیاری ٹی بی ادویات اکثر دستیاب نہیں ہوتیں
کراچی (این این آئی)عالمی یومِ تپِ دق 2026 کے موقع پر پاکستان میڈیکل ایسویشن نے ملک میں ٹی بی کنٹرول کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اگرچہ عالمی تھیم امید کی عکاسی کرتی ہے ، مگر پاکستان میں زمینی حقائق نظامی غفلت، مسلسل مالی کمی اور زندگی بچانے والی ادویات کی شدید قلت کی نشاندہی کرتے ہیں۔پاکستان بدستور دنیا میں ٹی بی کے بوجھ کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے ، جہاں ہر سال تقریباً 6 لاکھ 86 ہزار نئے کیسز اور 49 ہزار اموات رپورٹ ہوتی ہیں۔
اس کے باوجود صحت کے شعبے کے لیے حکومتی ترجیحات نہایت کمزور دکھائی دیتی ہیں۔پی ایم اے نے معا لجین اور مریضوں کو درپیش ایک نہایت تکلیف دہ حقیقت کو اجاگر کیا ہے :یہ ہمارے صحت کے نظام کا المیہ ہے کہ ایک طرف ہم وبا کے خاتمے کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بالغ مریضوں کے لیے معیاری ٹی بی ادویات اکثر دستیاب نہیں ہوتیں، اور بچوں کے لیے مخصوص ادویات کی کمی اس سے بھی زیادہ سنگین ہے ، ہم اپنی آنے والی نسل کو ناکام کر رہے ہیں۔