طلبہ کی تعلیمی نسل کشی قبول نہیں، منعم ظفر خان

طلبہ کی تعلیمی نسل کشی قبول نہیں، منعم ظفر خان

حکمران شاہانہ طرزِ زندگی کم کرنے کے بجائے بوجھ عوام پر ڈال دیتے ہیںتعلیمی بجٹ میں اضافہ اوراساتذہ کو درپیش مسائل حل کیے جائیں ،خطاب

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش، طلبہ کی تعلیمی نسل کشی کسی طور قابل قبول نہیں، تعلیمی اداروں کو بلاوجہ بند کرنے کی پالیسی ترک کی جائے ، تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے ، اساتذہ کو درپیش مسائل حل کیے جائیں اور طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار اس کے نظامِ تعلیم پر ہوتا ہے ، مگر بدقسمتی سے سندھ حکومت نے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں شامل ہی نہیں کیا۔ جب بھی کوئی مشکل یا بحرانی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو حکمران طبقہ سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا آسان راستہ اختیار کر لیتا ہے جس سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوتا ہے ،حکمران اپنی عیاشیاں، غیر ضروری اخراجات اور شاہانہ طرزِ زندگی کم کرنے کے بجائے سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں تنظیم اساتذہ کراچی کے تحت تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے تنظیم اساتذہ پاکستان کے صدر پروفیسر رئیس احمد منصوری ودیگر نے بھی خطاب کیا۔منعم ظفر نے تنظیم اساتذہ کو تعلیمی مسائل پر شعور اجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔رئیس احمد منصوری نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی ترجیحات میں تعلیم کا شعبہ نہ ہونے کے برابر ہے یہی وجہ ہے کہ بحرانی کیفیت میں سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی جلدی جاتی ہے جوکہ ایک انتہائی افسوس ناک اور تشویشناک عمل ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں