4.1ارب ڈالر مالیت کے14 منصوبوں کا جائزہ
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی سربراہی میں صوبائی ٹیم اور عالمی بینک حکام کااجلاس،2.2 ارب ڈالر جاری، یلو لائن بس منصوبے کیلئے مزید 157.7 ملین ڈالر منظورجام چاکرو میں کراچی کی سب سے بڑی لینڈ فل سائٹ کی تعمیر اہم سنگ میل قرار ،پانی کااولڈ پپری مین مکمل،دھابیجی پرکام جاری،شعبہ صحت،تعلیم، زراعت کابھی جائزہ
کراچی(اسٹاف رپورٹر)عالمی بینک نے سندھ حکومت کی اصلاحاتی مہم اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہونے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اہم منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد جاری ہے ، خصوصاً جام چاکرو میں کراچی کے سب سے بڑے لینڈ فل سائٹ کی تعمیر کو شہر کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کی جدید کاری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ،یہ اظہارِ اطمینان 4.1 ارب ڈالر مالیت کے عالمی بینک کے تعاون سے جاری 14 منصوبوں کے اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا گیا جس کا مشترکہ طور پر جائزہ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی سربراہی میں صوبائی ٹیم اور عالمی بینک حکام نے لیا۔ اب تک تقریباً 2.2 ارب ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں ۔سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پراجیکٹ (ایس ڈبلیو ای ای پی)کے تحت جام چاکرو لینڈ فل ایک جدید سہولت کے طور پر ابھر رہا ہے جس میں 59 فیصد فنڈز استعمال ہو چکے ۔ پہلے لینڈ فل سیل کے سول ورکس مکمل ہو چکے ہیں جبکہ سائٹ کو فعال بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ کچرا منتقلی کے اسٹیشنز پر بھی کام جاری ہے اور زیادہ تر اجزاء کی تکمیل 2026 تک متوقع ہے ۔ حکام پرانے ڈمپ سائٹس کو ماحولیاتی اصولوں کے مطابق بند کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ کھلے عام کچرا پھینکنے کے طریقہ کار سے سائنسی بنیادوں پر فضلہ ٹھکانے لگانے کی جانب ایک بڑی تبدیلی ہے جس سے شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول میسر آئے گا۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں عالمی بینک نے کراچی موبیلٹی پراجیکٹ کے تحت یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کیلئے مزید 157.7 ملین ڈالر کی منظوری دی ہے اور اس کی تکمیل کی مدت 2028 تک بڑھا دی گئی ہے ۔ سینئر وزیر شرجیل میمن کے مطابق منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور ڈپو اور پلوں سمیت اہم انفراسٹرکچر پر پیش رفت جاری ہے ۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹس کے تحت بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جہاں پہلے مرحلے میں 77 فیصد فنڈز جاری ہو چکے ہیں۔ اولڈ پپری مین کی تکمیل ہو چکی جبکہ دھابیجی رائزنگ مین تکمیل کے قریب ہے ۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں طویل المدتی پانی کی فراہمی، بشمول کے فور توسیع، ابتدائی مراحل میں ہے جہاں اراضی کے معاوضے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر کام جاری ہے ۔ عالمی بینک نے پائیداری کیلئے خریداری کے عمل اور ادارہ جاتی اصلاحات کو تیز کرنے پر زور دیا۔صحت کے شعبے میں سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پراجیکٹ کے تحت پیش رفت جاری ہے ۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے مطابق ایمبولینسز فعال ہیں، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز متعارف کرائے جا رہے ہیں اور طبی سہولیات کی بحالی کا عمل جاری ہے ۔تعلیم کے شعبے میں سندھ ارلی لرننگ انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت پیش رفت جاری ہے ۔ وزیر تعلیم سید سردار شاہ کے مطابق طلبہ کی حاضری کا نیا مانیٹرنگ نظام صوبے بھر میں توسیع پا رہا ہے جبکہ اسکولوں کی تعمیر اور بحالی جاری ہے اور متعدد منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔زرعی شعبے میں سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔