میرپورخاص :بی آئی ایس پی رقم میں بڑے پیمانے پر کٹوتی جاری
ڈیوائس ہولڈر، ایجنٹ 3000 سے 3500 روپے کی غیر قانونی کٹوتی کررہےاعتراض کرنے پرقسط روکنے کی دھمکی دی جاتی، حکام نوٹس لیں، خواتین کا مطالبہ
میرپورخاص (بیورورپورٹ) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت میرپورخاص میں مستحق خواتین کو ملنے والی امدادی رقوم میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن اور غیر قانونی مبینہ کٹوتی کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے ۔ ذرائع اور متاثرین کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً چونا فیکٹری، سیٹلائٹ ٹاؤن، کھپرو ناکہ روڈ، اسٹیشن چوک روڈ اور دیگر مقامات پر قائم ادائیگی مراکز میں ڈیوائس ہولڈرز اور ان کے ایجنٹس کی جانب 3000 سے 3500 روپے تک کی غیر قانونی کٹوتی کی اطلاعات ہیں ۔ متاثرہ خواتین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مکمل رقم ادا نہیں کی جاتی بلکہ کم رقم دے کر زبردستی انگوٹھے لگوا لیے جاتے ہیں، اگر کوئی کٹوتی پر اعتراض کرے تو اسے اگلی قسط بند کرنے یا رقم روکنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، ہم غریب لوگ ہیں، یہ پیسے ہمارے بچوں کے علاج اور گھر کے خرچ کے لیے ہوتے ہیں مگر ہمیں ہمارا پورا حق نہیں دیا جا رہا، اگر ہم کٹوتی نہیں کرنے دیں تو ہمیں کمپیوٹر میں فنی خرابی کا کہہ کر سارا دن کھڑا رکھ کر شام کو خالی ہاتھ واپس گھر لوٹا دیا جاتا ہے اور جو پیسے کٹوتی کرنے دے اسے فوری پیسے نکال کر دے دئیے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ عمل کسی ایک مرکز تک محدود نہیں بلکہ پورے ضلع میں جاری ہے ۔ متاثرہ خواتین نے وفاقی حکومت، چیئرپرسن بی آئی ایس پی ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔