سوشل میڈیا پر ایران کے بارے میں مثبت تاثرات کے ساتھ منفی تاثرات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں اور ہمارے اہلسنّت کے بعض علمائے کرام بھی اس حوالے سے متردّد ہیں کہ ہم کیا مؤقف اختیار کریں۔ میں نے پنجاب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور مختلف اجتماعات میں اس بارے میں علمائے کرام کی ذہن سازی کی۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے قومی تناظر اور عالمی تناظر میں فرق کوسمجھنا چاہیے۔ ہمارے خطے میں بلاشبہ مسلکی خلافیات موجود ہیں اور وہ ہماری تاریخ میں پیوست ہیں۔ ہماری یا کسی کی خواہش پر بیک جنبشِ قلم اُن کا ازالہ نہیں ہو سکتا‘ ہر طرف کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ مگر ہمیں عالمی تناظر کا بھی ادراک ہونا چاہیے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا: ''مسلمان شیعہ ہوں یا سنی‘ ہمارے لیے دونوں یکساں خطرہ ہیں‘‘۔ اُن کے نزدیک سنی مسلمان کا اطلاق داعش‘ داعش خراسان‘ القاعدہ‘ تحریکِ طالبان افغانستان‘ تحریکِ طالبان پاکستان اور پاکستان کے تمام غیر شیعہ مکاتب فکر پر یکساں ہوتا ہے۔ اگرچہ داعش کو امریکہ نے اپنے مقاصد کیلئے شام اور عراق میں استعمال کرنے کیلئے تخلیق کیا تھا‘ مگر بعض اوقات تخلیق خالق کے قبضے میں نہیں رہتی اور اس کیلئے بھی خطرہ بن جاتی ہے‘ لہٰذا بعد کو امریکہ نے اسے ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا اور اس کے خاتمے کو اپنی مہم بنایا۔
پس عالمی تناظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘ ایران اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا بھی رکن ہے اور شرقِ اوسط کے ممالک کے ساتھ بھی ایران کے تعلقات کو استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے‘ ورنہ مسلم ممالک کی باہمی آویزش مسلمانوں کی کمزوری اور اسرائیل اور امریکہ کی تقویت کا باعث بنے گی۔ رسالت مآبﷺ کے مکی دور میں فارس اور روم کی آویزش چلی آ رہی تھی‘ اُس وقت اہلِ فارس آتش پرست تھے اور اہلِ روم جن کا عالمِ عرب میں مرکز شام تھا‘ اپنے آپ کو مسیحیت سے وابستہ قرار دیتے تھے۔ ایک مرحلے پر اہلِ فارس اہلِ روم پر غالب آ گئے تو مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں پر طعن کیا کہ تمہاری طرح الہامی دین کے ماننے والے رومی شکست کھا گئے ہیں اور ہمارے ہمنوا فارس کے مشرک فتح یاب ہو گئے ہیں‘ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی طمانیتِ قلب کیلئے یہ آیاتِ مبارکہ نازل فرمائیں: ''قریب کی سرزمین میں رومی (اہلِ فارس سے) مغلوب ہو گئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب چند سالوں میں (دوبارہ) غالب ہوں گے‘ اول وآخر حکم اللہ ہی کا نافذ ہونا ہے اور اُس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے‘ وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے‘ وہ بہت غالب‘ بے حد رحم فرمانے والا ہے‘‘ (الروم: 2 تا 5)۔ یہاں دوبارہ رومیوں کے غلبے کیلئے قرآنِ کریم میں ''بِضْع‘‘ کا لفظ آیا ہے اور ''بضع‘‘ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اور آخرِکار قرآنِ کریم کی یہ بشارت سچی ثابت ہوئی اور 6 ہجری تک رومی دوبارہ اہلِ فارس پر غالب آ چکے تھے۔ یہ واضح ہے کہ نصاریٰ اگرچہ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہﷺ کی نبوت کا انکار کرنے پر کافر ہو گئے تھے‘ لیکن چونکہ اُن کا ایک الہامی کتاب اور الہامی دین کے ساتھ ایک کمزور سا تعلق باقی تھا‘ اس لیے مشرکینِ مکہ انہیں مسلمانوں سے قریب تر اور اہلِ فارس چونکہ مشرک تھے‘ اس لیے وہ انہیں اپنے سے قریب تر سمجھتے تھے۔ پس کبھی شرِّ محض پر خیرِ قلیل کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں اسرائیل اور امریکہ جارح ہیں اور ایران اُن کی ظالمانہ جارحیت کا شکار ہوا ہے‘ پھر انہوں نے دھوکے پہ دھوکا دیا۔ ایک طرف انہوں نے ایران کو مصالحتی مذاکرات میں مشغول رکھا اور دوسری طرف اُن کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی منصوبہ بندی کرتے رہے اور ہر بار مذاکرات کو نامکمل چھوڑ کر اچانک ایران پر حملہ کر دیا۔ اسی کو کہتے ہیں: ''بغل میں چھری، منہ میں رام رام‘‘۔ ایران آخری مذاکرات میں کم ترین درجے پر یورینیم کی افزودگی پر بھی آمادہ ہو گیا تھا‘ بس محض فنی بنیادوں پر اس معاہدے کو حتمی شکل دینا باقی تھی۔ ثالثی کا فریضہ انجام دینے والے عمان کے وزیرِ خارجہ نے اس کے بارے میں واضح بیان بھی دے دیا تھا اور بعد کو امریکہ اور اسرائیل کی وعدہ خلافی اور دھوکا دہی پر انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم کی خوشنودی کیلئے امریکی صدر ٹرمپ نے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کو معطل کر دیا‘ بلکہ اس نے اپنے نیٹو اتحادیوں کو بھی پرِکاہ کے برابر اہمیت نہیں دی۔ حتیٰ کہ امریکی کانگریس کو بھی اعتماد میں لینا مناسب نہ سمجھا۔ گویا ایک شخص نے اپنی اَنا اور سیماب صفت مزاج کے سبب پوری دنیا کو مصیبت میں ڈال دیا۔ پس حکومتِ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی جو حمایت کی ہے‘ یہ ہر لحاظ سے درست ہے اور پوری قوم کو اس میں حکومت کا ہمنوا ہونا چاہیے۔ نیز پاکستان نے سعودی عرب اور بعض خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے سے مقدور بھر روکا ہے‘ یہ قابلِ تحسین بات ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب‘ قطر‘ کویت اور عمان نے اس سلسلے میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے اور اس کی بھی تحسین کی جانی چاہیے۔ البتہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کا مؤقف مختلف ہے‘ کیونکہ انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔ ہماری نظر میں خلیج کے تمام ممالک کو اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی حمایت میں متحد ہونا چاہیے اور پاکستان‘ ترکیے‘ مصر اور سعودی عرب پر مشتمل ایک مصالحتی گروپ بنا کر خطے کے ممالک کو آپس کے اختلافات حل کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے‘ ورنہ دشمن ایک ایک کر کے سب کو شکار کرے گا اور آخر میں کفِ افسوس ملنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہے گا۔
ایران مظلوم ہے‘ جارحیت کا شکار ہوا ہے‘ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی ملک پر میزائل سازی کی پابندی نہیں ہے‘ نہ یہ پابندی ہے کہ وہ کتنے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنائے‘ لہٰذا امریکہ اور اسرائیل کی یہ شرط غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔ ایران کا یہ مطالبہ بھی درست ہے کہ اس پر ناجائز جارحیت کی گئی ہے‘ لہٰذا اس کے جنگی نقصانات کی تلافی جارح ممالک کو کرنی چاہیے‘ ان میں فوجی والیکٹرانک تنصیبات‘ شہری تعمیراتی ڈھانچہ اور سول اثاثوں سمیت تمام نقصانات شامل ہیں۔ البتہ ایران نے شرقِ اوسط کے ممالک پر جو حملے کیے ہیں‘ اُن پر گفتگو کی گنجائش موجود ہے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ امریکہ نے یہ فوجی اڈے ایران کے خلاف حملے اور جارحیت کیلئے قائم کیے ہیں‘ لہٰذا یہ ہمارا جائز ہدف ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اس بات کے کوئی قطعی شواہد نہیں ہیں کہ آیا ان اڈوں سے عملاً ایران پر حملے ہوئے ہیں‘ بعض لوگوں نے بتایا: عرب سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اسرائیل کی عَلانیہ حمایت کرتے ہیں۔ ایران کو یہ ساری قوت اسرائیل اور امریکہ کی اُن تنصیبات پر صرف کرنی چاہئیں جن تک اُس کی رسائی ممکن ہے۔ اسرائیل کو بلاشبہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں برتری حاصل ہے‘ امریکہ سپر پاور ہے اور ان دونوں کا مشترکہ ہدف ایران ہے۔ ایران کا ان کے مقابل ثابت قدم رہنا اور مقدور بھر مقابلہ کرنا‘ اپنے میزائلوں سے انہیں ہدف بنانا‘ کسی حد تک ان کے فضائی دفاعی نظام کو بے اثر کرنا بہت بڑی بات ہے‘ کیونکہ اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ اسرائیل وامریکہ کو کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ ایران کی دوسری بڑی کامیابی اعلیٰ درجے کی کئی مراحل کی قیادت کے بتدریج منظر سے ہٹ جانے کے باوجود ثابت قدم رہنا اور منظم انداز میں مقابلہ کرنا ہے۔ اتنے مظالم سہنا اور سہارنا بھی عزیمت واستقامت اور قوت وطاقت کی علامت ہے۔ افغانستان نے بلاشبہ سوویت یونین اور امریکی اتحادی غاصب قوتوں کا مقابلہ کیا ہے اور آخرکار انہیں افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ لیکن افغان حکومت میدان میں کھڑی نہیں ہوئی تھی‘ بلکہ اس نے گوریلا جنگ کا حربہ استعمال کیا‘ جبکہ دشمن کی فوجیں اس کی سرزمین پر آکر قابض ہو گئی تھیں۔ اس کے برعکس ایرانیوں نے اپنی سرزمین پر ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور یہ بلاشبہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
( نوٹ: یہ کالم مورخہ 5 اپریل 2026ء کو لکھا گیا)