چک 249۔ ای بی کے باشندے منور سیال ولد اللہ دتہ کا قصور کیا تھا؟
اس کا سب سے بڑا‘ ناقابلِ معافی‘ قصور یہ تھا کہ وہ ایک عام آدمی تھا۔ پاکستان میں عام آدمی ہونا گناہ ہے‘ ایسا گناہ جو کبھی معاف نہیں ہوتا۔ آپ سو قتل کریں‘ بچ جائیں گے۔ آپ بندے اغوا کریں‘ آپ کو ہاتھ کوئی نہیں لگا سکتا۔ آپ گاڑی اٹھا لیں‘ پھر علاقہ غیر جا کر گاڑی کے مالک کو بلائیں۔ پھر مسجد میں بیٹھ کر اس سے لاکھوں روپے لے کر اس کی اپنی گاڑی اسے واپس کریں۔ وہ اعتراض کرے تو اس بدبخت کو بتائیں کہ یہ آپ کے بچوں کی محنت کا ثمر ہے۔ اس کے بعد آپ حاجی صاحب بن کر سارا ملک گھوم آئیں۔ آپ کا بال بیکا کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ بینک سے کروڑوں روپے کا قرض لے کر واپس دینے سے انکار کر دیں‘ یا معاف کرا لیں‘ کسی ادارے میں ہمت نہیں کہ سزا تو دور کی بات ہے‘ آپ کا نام ہی ظاہر کرے۔ آپ ٹیکس چوری کریں‘ آپ کی عزت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے‘ کمی نہیں ہو گی۔ آپ چینی مافیا کا حصہ بن کر راتوں رات اربوں کما لیں‘ آپ کو ہاتھ تو کوئی کیا لگائے گا‘ الٹا نئی کابینہ میں آپ وزارت کا حلف لے رہے ہوں گے! آپ موٹروے سے پیسہ بنائیں یا رِنگ روڈ سے‘ آپ معزز کے معزز رہیں گے۔ لیکن اگر آپ عام آدمی ہیں تو چند ہزار کا قرض بھی واپس کرنے میں تاخیر کی صورت میں بینک آپ کے گردے اور انتڑیاں نکال کر تار پر لٹکا دے گا۔ قتل کوئی اور کرے گا لیکن آپ چونکہ عام آدمی ہیں‘ اس لیے جیل میں آپ جائیں گے۔ وہاں آپ مر جائیں گے۔ مرنے کے بعد آپ کو بے گناہ قرار دیا جائے گا۔ تھانے میں چوری کی رپورٹ درج کرانے جائیں گے تو تھانیدار چور کو پکڑے یا نہ پکڑے‘ آپ کو ضرور بٹھا لے گا۔ زمین کے انتقال کیلئے کچہری جائیں گے تو آپ کی کھال اس طرح اتار لی جائے گی جیسے محمد تغلق کے زمانے میں زندہ مجرموں کی اتاری جاتی تھی۔
چک 249۔ ای بی کے منور سیال ولد اللہ دتہ کا بھی سب سے بڑا قصور یہی تھا کہ وہ ایک عام پاکستانی تھا۔ اس کی پشت پر کوئی ایم این تھا نہ کوئی ایم پی اے۔ اس کے عزیزوں میں کوئی جرنیل تھا نہ کوئی بیورو کریٹ! اس کے آبائو اجداد میں سے کسی نے بھی لارڈ کرزن کی یا اوڈائر کی یا مِٹکاف کی چاکری کی تھی نہ مخبری نہ ہی آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے خلاف سفید فام سرکار کا ساتھ دیا تھا۔ ایسا ہوتا تو آج وہ بھی گدی نشین ہوتا یا وڈیرہ اور اسمبلی میں اس کیلئے خاندانی نشست محفوظ ہوتی! ایسا ہوتا تو اس کے اہلِ خانہ لاس اینجلس میں ہوتے یا لندن میں اور وہ خود اسلام آباد کے کسی محل میں بیٹھ کر سینیٹر بننے کیلئے جوڑ توڑ کر رہا ہوتا۔
چک 249۔ ای بی کے منور سیال ولد اللہ دتہ کا یہی قصور کیا کم تھا کہ وہ عام آدمی تھا‘ اس پر مستزاد‘ اس نے ظلم یہ کیا کہ وہ بیمار پڑ گیا۔ اسے بیمار پڑنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ یوں تو مملکتِ خداداد میں عام آدمی کا کوئی جرم معاف نہیں ہوتا مگر بیمار پڑنا اتنا بڑا اور اتنا ہولناک جرم ہے کہ اس سے درگزر ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ بیمار پڑنا تو ان خواص کو زیبا ہے جو چھینک آنے پر بھی لندن جا کر علاج کرائیں اور وہ بھی سرکاری خرچ پر!! ڈاکٹر جن کی دہلیز پر حاضری دیں۔ ایسی بیماریوں ہی میں تو مزہ ہے۔ بیماری کی بیماری! سیر کی سیر! پکنک کی پکنک!! ایک زمانہ تھا کہ اونچے طبقے کے مراعات یافتہ افراد‘ علاج کیلئے مقامی اطبّا کو بلاتے تھے۔ ان اطبّا کا کام ایسی ادویات تیار کرنا تھا جو خوش ذائقہ ہوں اور خوش نما بھی! چاندی اور سونے کے ورق خوشنمائی کیلئے استعمال ہوتے اور شہد‘ شیرینی کیلئے! زیادہ تر ادویات شباب کے دوام کیلئے ہوتیں! معجونیں‘ خمیرے‘ مرکبات‘ کُشتے‘ جوارش‘ اطریفل‘ طلا‘ لعوق‘ مربّے‘ شربت‘ عرق اسی دور کی یادگاریں ہیں۔ مگر اب خمیرہ گاؤزبان‘ خمیرہ مروارید اور مربّہ سیب عام لوگوں کیلئے رہ گئے ہیں۔ خواص بلکہ خاص الخاص اب بیماری میں پہلے جہاز کی فرسٹ کلاس کا مزہ لیتے ہیں۔ پھر لندن‘ دبئی‘ امریکہ یا سوئٹزر لینڈ جا کر چیک اپ کیلئے مہینوں قیام کرتے ہیں۔ اس عرصہ میں اگر کاروبارِ سلطنت کی ذمہ داری بھی نبھانا ہو تو منشی اور اہلکار بھی لندن یا دبئی منتقل ہو جاتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ کئی دہائیوں کے اقتدار میں کیا ایک شفاخانہ بھی آپ ایسا نہیں بنا سکے جو آپ کے علاج کے شایانِ شان ہو تو ایسے بندۂ گستاخ کا منہ بند کرنے کیلئے کئی پشتینی وفادار شمشیر بدست باہر نکل آتے ہیں۔
چک 249۔ ای بی کے منور سیال ولد اللہ دتہ نے بیمار ہونے کی غلطی کی تو اسے قریب ترین قصبے گگو منڈی لایا گیا۔ یہ قصبہ ملتان دہلی روڈ پر واقع ہے۔ یہ وہی شاہراہ ہے جو شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی۔ گگو منڈی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ایک ہسپتال چیف منسٹر صاحبہ کے نام پر بنا ہے۔ منور سیال ولد اللہ دتہ کو جب ہسپتال لایا گیا تو ایمرجنسی میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ موجود ڈسپنسر نے کھڑپینچی دکھائی اور منور سیال ولد اللہ دتہ کو کسی قسم کی طبی امداد دیے بغیر‘ بوریوالہ ہسپتال ریفر کر دیا۔ منور سیال ولد اللہ دتہ کے ساتھ بوریوالہ میں کیا سلوک کیا گیا‘ یہ جاننے سے پہلے ذرا وہ خبر پڑھ لیجیے جو گگو منڈی ہسپتال کے متعلق تین اپریل کو روزنامہ دنیا میں چھپی۔ ''گگومنڈی کے شہریوں نے مریم نواز ہسپتال کی تزئین وآرائش پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود سہولتوں کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ ہسپتال میں مریضوں کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ ایمرجنسی میں مریضوں کو ادویات فراہم نہیں کی جاتیں بلکہ بازار سے خریدنے کا کہا جاتا ہے۔ شہریوں کے مطابق حادثات کی صورت میں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ٹی ایچ کیو بوریوالہ ریفر کر دیا جاتا ہے۔ ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی اور ایکسرے وبلڈ ٹیسٹ کی سہولتیں نہ ہونے کے باعث مریضوں کو نجی لیبارٹریوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے‘‘۔
گگومنڈی کے ہسپتال کو اس کے حال پر چھوڑ کر ہم منور سیال ولد اللہ دتہ کے ساتھ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بوریوالہ چلتے ہیں۔ منور سیال کو بوریوالہ ہسپتال پہنچایا گیا تو وہ جاں بلب تھا۔ اس کی حالت خراب تھی۔ مگر ڈاکٹروں نے دانائی سے کام لیتے ہوئے اس کا شناختی کارڈ طلب کیا۔ جس حالت میں منور سیال کو چک 249۔ ای بی سے گگو منڈی ہسپتال لایا گیا تھا اور پھر وہاں سے تحصیل ہسپتال بوریوالہ پہنچایا گیا تھا اس میں شناختی کارڈ کا کسے ہوش تھا؟ مسئلہ منور سیال کی جان بچانے کا تھا۔ تاہم تحصیل ہسپتال بوریوالہ کے نرم دل اور خدا ترس ڈاکٹروں نے اس کا علاج کرنے سے انکار کر دیا۔ کرتے بھی کیسے؟ شناختی کارڈ جو نہیں تھا! منور سیال کے لواحقین منتیں کرتے رہے۔ مگر ڈاکٹر شناختی کارڈ کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔ اصول اصول تھا۔ علاج کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ منور سیال ولد اللہ دتہ نے تحصیل ہسپتال بوریوالہ کی ایمرجنسی کے سامنے دم توڑ دیا۔ یوں منور سیال ولد اللہ دتہ کا جو سفر چک 249۔ ای بی سے شروع ہوا تھا‘ وہ گگومنڈی ہسپتال سے ہوتا ہوا تحصیل ہسپتال بوریوالہ کی ایمرجنسی کے سامنے موت کی صورت میں اختتام پذیر ہوا۔