لاڑکانہ:قنبر کا زیبسٹ میں زیرتعلیم طالبعلم پراسرار لاپتہ
اعجاز سکندر بی بی اے کاطالبعلم، چانڈکا پل کے قریب ہاسٹل میں رہتا تھا، والد9جون کوگھر کیلئے نکلا تھا، سکندر علی، نوجوان کی لوکیشن کراچی کی آئی، پولیس
لاڑکانہ (بیورو رپورٹ)لاڑکانہ کی زیبسٹ یونیورسٹی میں بی بی اے کی تعلیم حاصل کرنے والا قنبر شہدادکوٹ کے شہر وارہ کا رہائشی 18 سالہ طالبعلم اعجاز علی چانڈیو پراسرار لاپتہ ہوگیا، اس حوالے سے نوجوان طالب علم اعجاز علی کے والد سکندر علی چانڈیو نے رشتہ داروں ایڈووکیٹ جاوید چانڈیو اور ایڈووکیٹ آفتاب علی چانڈیو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ میرا 18 سالہ بیٹا اعجاز سکندر چانڈیو زیبسٹ یونیورسٹی لاڑکانہ کیمپس میں بی بی اے کے پہلے سال کا طالب علم ہے ، جو چانڈکا پل کے قریب ایک نجی ہاسٹل میں رہتا ہے ، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 9 جون کو رات 10 بجے بیٹا اعجاز ہاسٹل میں ساتھ رہنے والے دوستوں کو گاؤں جانے کا کہہ کر نکلا، جس کے بعد وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا، اس کے تمام موبائل نمبرز مسلسل بند مل رہے ہیں، مختلف مقامات پر تلاش کرنے کے بعد اس کی گمشدگی کی اطلاع متعلقہ سچل تھانے کی پولیس کو دیکر رپورٹ درج کروائی، لیکن اس کے باوجود بیٹے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ دوسری جانب لاڑکانہ پولیس نے معاملے کے متعلق کہا کہ ایس ایچ او سچل کی تحقیقات اور حاصل کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق نوجوان مرضی سے کراچی گیا ہے ، پولیس کے مطابق مزید تحقیقات اور ڈیجیٹل شواہد حاصل کرنے کے لیے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کے موبائل فون کی لوکیشن بھی کراچی سے موصول ہو رہی ہے ، لاڑکانہ پولیس نوجوان کے والدین، زیبسٹ انتظامیہ، اس کے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطے میں ہے اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔