رواں سال اسٹریٹ کرائم کی 29ہزار سے زائد وارداتیں

رواں سال اسٹریٹ کرائم کی 29ہزار سے زائد وارداتیں

کرائم کنٹرول کے پولیس دعوؤں کی سی پی ایل سی رپورٹ نے قلعی کھول دی846گاڑیاں، 18824موٹر سائیکلیں، 9116موبائل فون چھینے گئے

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)امسال 6 ماہ کے دوران شہر میں اسٹریٹ کرائم ، گاڑیوں ، موٹر سائیکل اور موبائل فونز کی چھینا جھپٹی عروج پر رہی اور 29 ہزار سے زائد وارداتیں ہوئیں۔پولیس کے کرائم کنٹرول کے دعوؤں کی سی پی ایل سی کے اعداد و شمار نے قلعی کھول دی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2026 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران شہر میں مختلف جرائم کی 29 ہزار 142 وارداتیں ہوئیں جس میں شہریوں سے مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کی 846 گاڑیاں اور 18 ہزار 824 موٹر سائیکلیں چوری و چھین لی گئیں۔شہریوں کو 9 ہزار 116 موبائل فونز سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ، شہر میں مجموعی طور پر قتل و غارت گری کی وارداتوں میں 272 افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ، بھتہ خوری کے 80 واقعات، اغوا تاوان کے 3 اور بینک ڈکیتی کا صرف ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔ سی پی ایل سی نے گزشتہ ماہ جون میں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ 109 گاڑیاں چوری و چھینی گئیں جن میں 8 گاڑیاں چھینی اور 101 چوری کی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2 ہزار 773 موٹر سائیکل چوری ہوئے جن میں 374 چھینی اور 2 ہزار 419 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا ، گزشتہ ماہ شہریوں سے 1689 موبائل فونز بھی چھین لیے گئے جبکہ بھتہ خوری کے 9 واقعات ہوئے ۔سی پی ایل سی کے مطابق جون کے 30 روز کے دوران شہر میں قتل کی وارداتوں میں مجموعی طور پر 40 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں