جامعہ کراچی کے پروفیسر کیخلاف کارروائی روکنے کاحکم
آئندہ حکم تک درخواست گزار کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت محمد علی ہارڈ شپ الاؤنس کے حقدار ،الاؤنس میں کٹوتی غیر قانونی ،درخواست گزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے جامعہ کراچی کے پروفیسر محمد علی کے خلاف ہارڈ شپ الاؤنس اور اپ گریڈیشن کے معاملے پر کارروائی سے روکتے ہوئے آئندہ حکم تک درخواست گزار کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت کردی۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں جامعہ کراچی کے شعبہ اکنامکس و شماریات کے پروفیسر محمد علی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ جامعہ کراچی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محمد علی کی پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل نہیں ہوئی اور درخواست گزار 11 سال کی مدت میں بھی پی ایچ ڈی مکمل نہیں کرسکے ۔ اس لیے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ان سہولتوں کے حقدار نہیں جو پہلے حاصل کرچکے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل معیز جعفری ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پی ایچ ڈی کے لیے دی جانے والی اسکالرشپ میں جامعہ کراچی کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔ جامعہ کراچی نے پی ایچ ڈی کے دوران تین بار مطلوبہ فنڈز جاری نہیں کیے ۔ وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کی پی ایچ ڈی مکمل نہ ہونے کی وجہ جامعہ کراچی کا رویہ تھا، اس میں درخواست گزار کی کوئی غلطی نہیں۔ درخواست گزار سے 40 لاکھ روپے کی واپسی کا تقاضا انصاف کے خلاف ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق محمد علی ہارڈ شپ الاؤنس کے حقدار ہیں اور الاؤنس کی رقم میں کٹوتی کے اقدامات غیر قانونی ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کے خلاف تا حکم ثانی کسی بھی کارروائی سے روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments