کچی آبادی میں ہپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کا انکشاف ، 13 فیصد آبادی مرض میں مبتلا
بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے نے 74 ہزار افراد کی اسکریننگ کی، 10 ہزار متاثرہوئے ، غیر محفوظ انتقال خون اور حجام کی دکانیں ہپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہیں ،طبی ماہرین
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )شہر قائد میں موذی مرض ہپاٹائٹس سی تیزی سے پھیلنے لگا،صرف ایک کچی آبادی کی 13 فیصد آبادی اس کا شکار ہو نے کا انکشاف ہوا ہے ۔بین الاقوامی این جی او کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہر قائد میں موذی مرض ہپاٹائٹس سی تیزی سے پھیل رہا ہے ،مچھر کالونی کی 13 فیصد آبادی اس موذی مرض کا شکار پائی گئی ہے ۔مچھر کالونی میں گزشتہ روز بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے نے 74 ہزار معالج سے علاج معالجے کے لیے رجوع کریں۔کراچی کے علاقے مچھر کالونی میں بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے نے 74 ہزار افراد کی اسکریننگ کی 10 ہزار سے زائد میں ہپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوئی ۔بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے کے مطابق مچھر کالونی میں ہپاٹائٹس کا شکار 9,000 سے زائد افراد کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
افراد کی اسکریننگ کی۔ جب نتائج سامنے آئے تو یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ علاقے کے 10 ہزار سے زائد آباد ہپاٹائٹس سی سے متاثر ہوچکی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرنجز کا غیر ضروری اور دوبارہ استعمال، غیر محفوظ انتقال خون اور حجام کی دکانیں ہپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہیں جب کہ مچھر کالونی میں اتائی ڈاکٹر بھی کالے یرقان کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موذی مرض سے بچاؤ کے لیے شہری غیر معیاری بلڈ بینک سے خون کے حصول کی کوشش نہ کریں،حجام سے شیو کرانے کے لیے نئے بلیڈ کے استعمال پر زور دیں اور اتائیوں کے بجائے کسی متند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments