80 فیصد عمارتیں حفاظتی آلات سے محروم
عمارتوں میں آتش زدگی اور اموات معمول بن گئیں، نومبر 2024سے اب تک 1700سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں تعمیرات کے بعد جانچنے کا کوئی میکنزم ہے نہ ہی فیکٹری، شاپنگ مالز اور رہائشی فلیٹس کی انتظامیہ حفاظتی نظام فعال رکھنے کی کوشش کرتی ہے
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد میں 80 فی صد عمارتوں میں حفاظتی آلات کا نظام موجود نہیں ہے ، اور عمارتوں میں آتش زدگی اور اموات معمول بن چکے ہیں۔ جب کہ متعلقہ ادارے مروجہ قوانین کی خلاف وزیوں پر اقدامات لینے کو تیار نہیں۔دنیا بھر میں عمارات کی تعمیر حفاظتی قوانین کے ساتھ کی جاتی ہیں، جب کہ شہر کراچی میں 80 فیصد تعمیرات حفاظتی آلات کے نظام سے محروم ہیں۔ متعلقہ ادارے تعمیرات کے ابتدائی قواعد و ضوابط تو پورے کرواتے ہیں مگر بعد میں ان کو جانچنے کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے ، اور نہ ہی فیکٹری، شاپنگ مالز اور رہائشی فلیٹس کی انتظامیہ حفاظتی نظام کو فعال رکھنے کی کوشش کرتی ہے ۔ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق نومبر 2024 سے اب تک کراچی میں 1700 سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر کی وجہ شارٹ سرکٹ اور ناقص وائرنگ ہے ۔کراچی میں سالانہ ہزاروں بلند عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں، جن کی اکثریت میں حفاظتی آلات کا فقدان ہوتا ہے ۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بدعنوانی، غفلت اور قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عمارتوں میں حادثات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق شہر میں فائر سیفٹی کا بحران سنگین صورت اختیار کرگیا ہے ، 90 فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی راستے تک نہیں، جس کے باعث لاکھوں شہری روزانہ خطرے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔جن عمارتوں کی تعمیر کے دوران فائر سیفٹی کوڈز کا خیال نہیں رکھا گیا، انہیں این او سی جاری نہیں ہونا چاہیے ، ان کے مطابق غیر محفوظ عمارتوں کو اجازت دینا شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں اب تک 2700 سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔فائر بریگیڈ ذرائع کے مطابق پورے شہر میں صرف 28 فائر اسٹیشنز ہیں، حالانکہ آبادی کے لحاظ سے کم از کم 200 ہونے چاہئیں، اب تک 34 فائر فائٹرز اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ رسپانس ٹائم ڈیڑھ منٹ تک کم ہے ، مگر ٹریفک، بند راستے اور اداروں کی عدم ہم آہنگی تاخیر کا باعث بنتی ہے ، شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ شہر کی خستہ سڑکیں، ناقص منصوبہ بندی اور غیر مربوط ادارے آگ کے پھیلاؤ کو بڑھا رہے ہیں، بلدیاتی اداروں کو فوری طور پر بااختیار بنانا ہوگا۔ کراچی کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) پہلے ہی 500 سے زائد عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دے چکی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments