آشوب چشم: مریضوں کی تعداد دگنی، ہسپتالوں میں رش

آشوب چشم: مریضوں کی تعداد دگنی، ہسپتالوں میں رش

لاہور(سہیل احمد قیصر، عاطف پرویز)آشوب چشم کے مرض نے صوبائی دارالحکومت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آنکھوں کا سرخ ہوجانا اور اِن سے پانی بہنا مرض کی بڑی علامات ہیں۔

ایک ہفتے کے دوران لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث رش بڑھ گیا جبکہ سکولوں میں بھی 18فیصد طلبا اور اساتذہ وبا سے متاثر ہو گئے ۔ تفصیل کے مطابق موسم برسات کے بعد جہاں ڈینگی کے مرض نے اپنے پر پھیلانا شروع کررکھے ہیں تو وہیں آشوب چشم کا مرض بھی تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا ہے ۔عمومی طور پر جب آنکھ کی باریک جھلی میں سوزش ہوجاتی ہے تو یہ آنکھ کے سفید حصے کو ڈھانپ لیتی ہے جس کے باعث جھلی کی سفید رنگت گلابی یا سرخ رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔اِسے آشوب چشم کی واضح علامت قرار دیا جاتا ہے ۔ادھر سکولوں میں بھی آشوب چشم کی وبا پھیل گئی،18فیصد طلباو اساتذہ بیماری میں مبتلا ہوگئے ۔

محکمہ سکول ایجوکیشن نے تاحال کوئی گائیڈ لائن نہ دی جس سے وبا مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ۔ ہر کلاس میں آٹھ سے دس بچے وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔ طلبا نے ایجوکیشن اتھارٹی لاہور سے بیماری میں مبتلا بچوں کو چھٹی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وبا ایک سے دوسرے طالبعلم میں پھیل رہی ہے۔ گورنمنٹ اے پی ایس شہدا ہائی سکول ماڈل ٹاؤن کے پرنسپل رانا عطا بھی وبا سے متاثر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ امید ہے محکمہ صحت سے مشاورت کے بعد محکمہ سکول ایجوکیشن کوئی گائیڈ لائن جاری کرے گا۔اِس حوالے سے ماہر امرض چشم پروفیسر ڈاکٹر اسداسلم نے روزنامہ دنیا کو بتایا یہ مرض سات سے چودہ دنوں تک رہ سکتا ہے لیکن بہت ضروری ہے کہ اِس میں مبتلا ہونے والے مریض فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ ماہر امراض چشم ڈاکٹر ناصر چودھری نے روزنامہ دنیا کو بتایا بہت ضروری ہے کہ اِس مرض میں مبتلا ہونے والے خود کو دوسروں سے دور رکھیں۔ اُن کا کہنا تھا خود سے کوئی بھی علاج کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں