ایل ڈی اے :شہریوں سے ترقیاتی کاموں کے عوض فیس وصولی

ایل ڈی اے :شہریوں سے ترقیاتی کاموں کے عوض فیس وصولی

پہلی مرتبہ بیٹرمنٹ فیس نافذ ،فیس صرف ان املاک سے لی جائے گی جو براہ راست ان ترقیاتی کاموں سے فائدہ اٹھائیں گیاربن ری جنریشن کے تحت سڑکوں کی بہتری، ٹف ٹائلز، پیور، فٹ پاتھ اور واک ویز تعمیر ہونگے ، ایس او پیز کی تیار ی شروع

لاہور (شیخ زین العابدین)ایل ڈی اے نے پہلی مرتبہ بیٹرمنٹ فیس وصول کرنے کا عملی آغاز کر دیا۔جہاں سسٹینیبل ڈویلپمنٹ ہوگی، وہاں کمرشل املاک کو قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں پہلی مرتبہ بیٹرمنٹ فیس نافذ کر دی گئی ہے ، جسے شہریوں پر ایک نئے ٹیکس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سسٹینیبل ڈویلپمنٹ ماڈل کے تحت کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کے عوض یہ فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق جہاں اربن ری جنریشن کے تحت سڑکوں کی بہتری، ٹف ٹائلز، پیور، فٹ پاتھ اور واک ویز تعمیر کیے جائیں گے ، وہاں موجود کمرشل املاک اور سٹیک ہولڈرز سے بیٹرمنٹ فیس وصول کی جائے گی۔یہ فیس صرف ان املاک سے لی جائے گی جو براہ راست ان ترقیاتی کاموں سے فائدہ اٹھائیں گی۔

اس پالیسی کے تحت گلبرگ فیز تھری کے بی بلاک اور فیشن ایونیو پر سسٹینیبل ڈویلپمنٹ ماڈل کے تحت ترقیاتی کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔اسی تسلسل میں محمود قصوری روڈ کو کمرشل کوریڈور کے طور پر اپ گریڈ کیا گیا، جہاں کمرشل املاک سے بیٹرمنٹ فیس وصول کی گئی۔ایل ڈی اے ذرائع کے مطابق محمود قصوری روڈ پر ایک ہی کمرشل عمارت سے تقریباً دو کروڑ روپے بیٹرمنٹ فیس وصول کی جا چکی ہے ۔اب اسی ماڈل کو ایم ایم عالم روڈ پر لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ایم ایم عالم روڈ کی ری ماڈلنگ کے دوران ہونے والے تمام ترقیاتی اخراجات وہاں موجود سٹیک ہولڈرز ادا کریں گے ، جبکہ ایل ڈی اے سسٹینیبل ڈویلپمنٹ کے تحت کام مکمل کرے گا۔مزید یہ کہ اگر مستقبل میں ٹف ٹائلز یا پیور خراب یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی مرمت کے اخراجات بھی متعلقہ املاک مالکان سے وصول کیے جائیں گے ۔ایل ڈی اے کی جانب سے بیٹرمنٹ فیس کی وصولی اور دیکھ بھال کے لیے باقاعدہ ایس او پیز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں