شہر میں الیکٹرک ٹیکسی سکیم متعارف کرانے کی تیاری
حکومت 1100 الیکٹرک ٹیکسیوں پر 5 سال تک مکمل مارک اپ خود ادا کریگی،ای ٹیکسی منصوبہ غیر ترقیاتی بجٹ سے چلایا جائے گاچارجنگ انفراسٹرکچر کی ذمہ داری گاڑیاں فراہم کرنیوالی کمپنیوں پر ہوگی، جنہیں ہر 25 ٹیکسیوں کیلئے 1چارجنگ سٹیشن قائم کرنا ہوگا
لاہور (شیخ زین العابدین) شہر میں الیکٹرک ٹیکسی سکیم متعارف کرانے کی تیاری کرلی گئی ۔حکومت پنجاب 1100 الیکٹرک ٹیکسیوں پر پانچ سال تک مکمل مارک اپ خود ادا کرے گی۔ای ٹیکسی منصوبہ غیر ترقیاتی بجٹ سے چلایا جائے گا، کابینہ منظوری کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے ۔ دستاویزات کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی اور سموگ سے نمٹنے کے لیے الیکٹرک ٹیکسی سکیم متعارف کرانے کی تیاری کر لی گئی ہے ، جس کے تحت 1100 الیکٹرک ٹیکسیوں کو سڑکوں پر لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ اس منصوبے پر قومی خزانے پر مجموعی طور پر تقریباً تین ارب پچاس کروڑ روپے کا مالی دباؤ پڑنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔
سکیم کے تحت ہر الیکٹرک ٹیکسی پر پانچ سال تک مکمل سود حکومت پنجاب خود ادا کرے گی، جبکہ قسطوں کی ادائیگی گاڑی کی ڈلیوری کے بعد شروع ہوگی۔ ہر ٹیکسی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 65 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے ، اگر قیمت اس حد سے زیادہ ہوئی تو اضافی رقم شہری خود ادا کرے گا۔تکنیکی شرائط کے مطابق ہر گاڑی کی کم از کم رینج 300 کلومیٹر ہوگی اور بیٹری پر 6 سال کی وارنٹی لازمی قرار دی گئی ہے ۔ چارجنگ انفراسٹرکچر کی ذمہ داری گاڑیاں فراہم کرنے والی کمپنیوں پر ہوگی، جنہیں ہر 25 ٹیکسیوں کے لیے ایک چارجنگ سٹیشن قائم کرنا ہوگا۔ دستاویزات کے مطابق ای ٹیکسی سکیم غیر ترقیاتی بجٹ سے چلائی جائے گی، جبکہ صرف تشہیری مہم کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ منصوبے کو کابینہ میں پیش کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب سے باضابطہ اجازت طلب کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے ۔