لاہورسرفیس واٹر پراجیکٹ، لاگت میں 107 فیصد اضافہ
6سال بعدبھی شروع نہ سکا،قیمت بڑھانے کی منظوری ، منصوبہ112 ارب تک جا پہنچا
لاہور(محمد حسن رضا سے )تحریک انصاف دور کا لاہور سرفیس واٹر پراجیکٹ، لاگت میں 107 فیصد اضافہ، 54 ارب کا منصوبہ 112 ارب تک جا پہنچا ،بار بار تبدیلیوں کی نذر ہوتا رہا، پنجاب حکومتنے منصوبے کی قیمت بڑھانے کی منظوری دیدی۔ لاہور کو زیرِ زمین پانی کے شدید بحران سے نکالنے کیلئے 2019 میں منظور کیا گیا لاہور سرفیس واٹر پراجیکٹ چھ سال گزرنے کے باوجود شروع نہ ہو سکا، سرکاری سمریوں کے مطابق منصوبے کی لاگت 54 ارب سے بڑھ کر 112 ارب تک جا پہنچی ہے ، جو 107 فیصد اضافہ بنتا ہے ۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق منصوبے کی لاگت میں 58 ارب روپے سے زائد اضافہ بنیادی طور پر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے بار بار ری ڈیزائن، سکوپ میں تبدیلی، آبادی کے نئے تخمینے اور مین لائنز کی لمبائی و سائز بڑھانے پرہوا۔ دستاویزات میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ دورانِ عمل ڈیزائن تبدیلیوں پراصل پی سی ون غیر مؤثر ہو چکا ہے ۔ یہ منصوبہ 2019 میں اس مقصد کے تحت شروع کیا گیا تھا کہ لاہور کو راوی کینال کے ذریعے سرفیس واٹر فراہم کر کے ٹیوب ویلز پر انحصار کم کیا جائے اور شہر کو طویل المدتی واٹر سکیورٹی فراہم کی جائے تاہم بار بار تبدیلیوں پر ابتک کوئی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ مکمل ہو سکا نہ ہی گھریلو صارفین کو سرفیس واٹر کی فراہمی شروع ہوئی ۔ منصوبے کے تحت شامل 1 لاکھ 10 ہزار گھریلو واٹر میٹرز بعد ازاں سکوپ سے نکال دیئے گئے ، جسکے بعد گھریلو صارفین کیلئے بغیر میٹر بلنگ جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ واٹر میٹرنگ اور اصلاحاتی اقدامات کو آئندہ کسی علیحدہ سکیم سے مشروط کر دیا گیا جس سے ریونیو بہتری اور پانی کے ضیاع پر قابو پانے کے اہداف متاثر ہونے کا اعتراف بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔