وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس درست قرار دے دیا، ہائیکورٹس کے فیصلے جزوی کالعدم

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹس کے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 سی کے متعلق فیصلے جزوی طور پر کالعدم کر دیئے اور سپر ٹیکس برقرار رکھا ہے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے سپرٹیکس کیس میں مختصر فیصلہ سنایا، کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بنچ نے کی۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد کر دیئے گئے، ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن4 بی 2015 کو برقرار رکھا جائے گا، ہائی کورٹس کے سیکشن 4 سی کے متعلق فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق 2015 کی درخواستوں کو مسترد کردیا اور قرار دیا کہ پارلیمنٹ انکم پر ٹیکس لگانے کا اختیار رکھتی ہے۔

عدالت نے سپر ٹیکس کے متعلق 2022 کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں اور فیصلہ دیا کہ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اگر کسی انفرادی کو رعایت بنتی ہے وہ متعلقہ فورم پر جائے، مضاربہ، میوچل فنڈز، اور بینولیٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلہ کے مطابق مختلف سیکٹرز سے متعلق الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔

قبل ازیں چند گھنٹے پہلے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا، دورانِ سماعت مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے جواب الجواب دلائل مکمل کیے۔

چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے تھے کہ کوشش کریں گے آج ہی مختصر فیصلہ سنا دیں، آرڈر کا انتظار کریں اور اگر آج ممکن نہ ہوا تو کل مختصر فیصلہ جاری کریں گے۔

خیال رہے کہ اس فیصلہ سے وفاقی حکومت کو تین سو ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہو گا، اس فیصلے کے بعد سپر ٹیکس سے متعلق قانونی ابہام ختم ہو گیا ہے اور حکومت کے مؤقف کو آئینی جواز حاصل ہو گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں