فیض فیسٹیول :آخری روز 15 سیشنز ،14کتب کی رونمائی

فیض فیسٹیول :آخری روز 15 سیشنز ،14کتب کی رونمائی

لاہور(سپیشل رپورٹر)لاہور آرٹس کونسل الحمرامیں فیض فیسٹیول کے تیسرے اور آخری روز ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری رہا، اہلِ قلم، فنکار، دانشور اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اختتامی روز 15 سیشنز ہوئے جبکہ 14کتب کی تقاریبِ رونمائی بھی ہوئیں۔ نامور اداکاروں، آرٹسٹوں نے اظہارِ خیال کیا۔ سینئر صحافی حامد میر، سہیل وڑائچ،مظہر عباس نے بدلتے حالات میں صحافت کی اہمیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور دیا۔سہیل وڑائچ نے کہافیض نے مشکل حالات میں بھی سچ لکھا، ساری زندگی جدوجہد کرتے گزاری۔ مظہر عباس نے کہا میں نے اس سے زیادہ صحافت کا بدترین دور نہیں دیکھا جتنا اب ہے ، ہمیں آئین کی حکمرانی چاہئے ۔ شاعر افتخار عارف اور ممتاز شاعرہ زہرا نگاہ نے فیض کے عہد، اسکی معنویت اور اسکے تسلسل پر گفتگو کی۔نقاد ناصر عباس نیئر نے فیض کی شاعری کے فکری پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ شاعر حارث خلیق نے کہا فیض کی آواز آج بھی امید، مزاحمت اور انسانی وقار کی علامت ہے۔ نامور کتھک ڈانسر نگہت چودھری نے ساتھیوں کے ہمراہ کتھک ڈانس سے حاضرین کے دل موہ لئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں