محکمہ توانائی کو4سال کا قابلِ عمل روڈ میپ تیار کرنیکاحکم
سی ایم فری سولر سکیم جلد مکمل ،منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں :صوبائی وزیر
لاہور(اپنے کامرس رپورٹر سے )صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر کی زیر صدارت محکمہ توانائی کا اہم اجلاس ہوجس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر قیادت ہونے والے حالیہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ توانائی کے جاری اور مجوزہ منصوبوں کی رفتار، شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کے امور پر غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ محکمہ توانائی آئندہ تین سے چار سال کا جامع، قابلِ عمل اور نتائج پر مبنی روڈ میپ تیار کرے تاکہ صوبے میں توانائی کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا صوبہ کے چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کر کے قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں تاکہ صنعتی اور تجارتی شعبے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کی جا سکے ۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مقررہ ٹائم لائنز پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے اور منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائیگی۔ صوبائی وزیر نے اراضی منتقلی معاملے پر بورڈ آف ریونیو کو فوری مراسلہ ارسال کرنے کی بھی ہدایت جاری کی تاکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ نہ آئے ۔ صوبائی وزیر توانائی نے سی ایم فری سولر سکیم کو جلد مکمل کرنے کی واضح ہدایت دیتے کہا حکومت کا اولین مقصد عوام کو معیاری، پائیدار اور سستی بجلی کی فراہمی ہے ۔ صوبائی وزیر کو نجی سرمایہ کاری کے تحت 6 بائیو گیس و بائیو فرٹیلائزر پلانٹس کے قیام پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ 4 پلانٹس لاہور جبکہ 2 فیصل آباد میں گجر کالونی ماڈل پر قائم کیے جائینگے ۔ تین ماڈل دیہات میں کمیونٹی بیسڈ بائیو گیس پلانٹس بطور پائلٹ منصوبہ شروع کیے جائینگے تاکہ دیہی علاقوں میں متبادل توانائی کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے ۔