4سال قبل اغوا ہونیوالی لڑکی کو بازیاب کرانے کاحکم
آئی جی پنجاب عدالت میں پیش، اہم سراغ کیلئے 2ہفتوں کی مہلت
لاہور( کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب کو چار سال قبل اغوا ہونے والی لڑکی کو 24مارچ تک بازیاب کرانے کاحکم دیدیا ،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے سائلہ سلمیٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب عبد الکریم عدالت میں پیش ہوئے ۔ جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے رپورٹ پیش کی ۔چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ کیا بات ہے ، سلمیٰ بی بی نہیں آ رہیں؟ اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ پیش کی جا رہی ہے ۔ چیف جسٹس نے رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ جو نکات رپورٹ میں درج کیے گئے ہیں کیا وہ نئی ضمنی رپورٹ میں بھی شامل ہیں۔؟آئی جی پنجاب عبد الکریم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نئی ضمنی رپورٹ میں تمام احوال درج ہیں۔ دوران تفتیش ایک اہم سراغ ملا ہے جس پر پیش رفت جاری ہے ۔ جس کے لئے مہلت کی استدعا ہے ۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ اس سراغ پر کام مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا؟ آئی جی پنجاب نے عدالت سے 2 ہفتوں کی مہلت طلب کی ۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 مارچ تک ملتوی کر دی ۔