4ارب فنڈز دینے سے انکار:بند روڈ تو سیع منصوبہ میں تاخیر کا خدشہ
صوبائی خزانہ اضافی فنڈز فراہمی کی پوزیشن میں نہیں، ادارہ قرض لیکرمطلوبہ وسائل کا انتظام کرے :چیف سیکرٹری کاایل ڈی اے کوجواب فیز ٹو کی تکمیل کیلئے 33 کنال اراضی حاصل کرنا ناگزیر ،لینڈ ایکوزیشن کیلئے 2ارب سے زائد، دیگرکاموں پر 87 کروڑ خرچ ہونے کا تخمینہ
لاہور (شیخ زین العابدین )لاہور کے اربوں روپے مالیت کے ایک اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کو فنڈنگ بحران کا سامنا ہے ۔بند روڈ ایکسیس کنٹرول کوریڈور فیز ٹو کیلئے ایل ڈی اے کی مالی معاونت کی درخواست پنجاب حکومت نے مسترد کر دی۔چیف سیکرٹری پنجاب نے واضح کر دیا کہ صوبائی خزانہ منصوبے کیلئے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔بند روڈ کی توسیع کا منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہونے کاخدشہ پیدا ہو گیا۔دستاویزات کے مطابق لاہور میں ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور شہر کے شمالی حصے کو جدید سفری سہولتیں فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا بند روڈ ایکسیس کنٹرول کوریڈور فیز ٹو منصوبہ اہم مرحلے پر پہنچنے سے پہلے ہی مالی مشکلات میں گھر گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منصوبے کیلئے 3ارب97کروڑ روپے کی فنڈنگ حاصل کرنے کی غرض سے پنجاب حکومت کو سمری ارسال کی تھی۔
اس سمری میں مالی سال 2025-26 کے دوران منصوبے پر عملی کام شروع کرنے اور مالی سال 2026-27 میں بھی مزید فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔تاہم پنجاب حکومت نے اس تجویز پر اعتراض عائد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ مالی صورتحال میں صوبائی خزانہ اس منصوبے کیلئے براہ راست فنڈنگ فراہم نہیں کر سکتا۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی جانب سے بھجوائے گئے جواب میں ایل ڈی اے کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر منصوبہ فوری طور پر شروع کرنا مقصود ہے تو ادارہ پنجاب حکومت سے قرض لے کر مطلوبہ وسائل کا انتظام کرے ۔منصوبے کی دستاویزات کے مطابق فیز ٹو کی تکمیل کیلئے 33 کنال اراضی حاصل کرنا ناگزیر ہے ۔ لینڈ ایکوزیشن کی مد میں2ارب روپے سے زائد لاگت کا تخمینہ لگایا گیا جبکہ سروس روڈز کی توسیع، تعمیراتی سرگرمیوں اور دیگر انجینئرنگ کاموں پر 87کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے ۔فنڈنگ کے معاملے پر سامنے آنیوالے اس نئے سرکاری مؤقف نے نہ صرف منصوبے کے آغاز کے شیڈول کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کی بروقت تکمیل پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔دوسری جانب پنجاب حکومت اور ایل ڈی اے کے درمیان آئندہ لائحہ عمل پر مزید مشاورت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔