ڈیزائن تبدیلی، بابو صابو واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے میں تاخیر کا خدشہ
منصوبے کی لاگت میں مزید8 ارب کا اضافہ ،مجموعی تخمینہ 60ارب سے تجاوز کر گیا،ایکنک کمیٹی پہلے ہی اس کی منظوری دے چکی کیس دوبارہ کمیٹی کو بھجوانا ناگزیر ہوگیا ،نئی منظوری میں وقت لگنے کے باعث منصوبے کے آغاز میں ایک سال کی تاخیر متوقع
لاہور (شیخ زین العابدین)بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کے باعث منصوبے کی لاگت میں مزید آٹھ ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ، جس کے بعد مجموعی تخمینہ ساٹھ ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے ۔اس منصوبے کی ابتدائی لاگت باون ارب روپے مقرر کی گئی تھی، جبکہ وفاقی حکومت کی ایکنک کمیٹی پہلے ہی اس کی منظوری دے چکی تھی۔ بعد ازاں سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے بھی منصوبہ منظور کیا، تاہم نظرثانی شدہ تخمینہ لاگت کے باعث کیس دوبارہ ایکنک کمیٹی کو بھجوانا ناگزیر ہو گیا ہے ۔ نئی منظوری کے عمل میں وقت لگنے کے باعث منصوبے کے عملی آغاز میں مزید تقریباً ایک سال کی تاخیر متوقع ہے ، جس کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے گا۔
منصوبے کے تحت بابو صابو میں جدید ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیا جائے گا، جہاں شہر کے سیوریج کے پانی کو ماحول دوست معیار کے مطابق صاف کرکے دریائے راوی میں چھوڑا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے بابو صابو کے مقام پر 836 ایکڑ اراضی 1992-93 میں ہی حاصل کر لی گئی تھی۔پہلے مرحلے میں کینٹ ڈرین، ملتان روڈ اور گلشنِ راوی سے آنے والے سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی مرحلے میں یومیہ 88 ملین گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت دستیاب ہوگی۔ منصوبہ مکمل ہونے پر مجموعی استعداد بڑھ کر یومیہ 198 ملین گیلن تک پہنچ جائے گی۔یہ منصوبہ فرانس کے ترقیاتی ادارے اے ایف ڈی کے مالی تعاون سے مکمل کیا جائے گا، جبکہ تعمیراتی مدت تقریباً ساڑھے چار سال مقرر کی گئی ہے ۔حکام کے مطابق لاہور کے تمام سیوریج کے پانی کو ڈسپوزل سے قبل مکمل طور پر صاف کرنے کے لیے مستقبل میں مجموعی طور پر چھ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس درکار ہوں گے ۔