کوٹ ادو : زیر حراست ملزم کی ہلاکت، تفتیش ایف آئی اے کے سپرد
پولیس حراست میں موت پر احتجاج، جوڈیشل انکوائری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
کوٹ ادو (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) تھانہ سٹی کوٹ ادو میں زیر حراست ملزم عمران عرف مانی کی ہلاکت کا معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا ہے ۔ شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے کیس کی تفتیش فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) ملتان ریجن کے سپرد کر دی گئی ہے جبکہ محکمانہ سطح پر بھی انکوائری عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کو مکمل ریکارڈ فراہم کر دیا گیا ہے اور تحقیقات کسی دباؤ کے بغیر قانون کے مطابق کی جائیں گی۔واضح رہے کہ پانچ روز قبل تھانہ سٹی کوٹ ادو کی حدود شیخ عمر میں ہیئر ڈریسر کی دکان چلانے والا عمران بھٹی کو مقدمہ نمبر 1725/25 بجرم 365 بی میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں 17 سالہ لڑکی انعم بشیر کے اغواء کا الزام نامعلوم افراد پر عائد کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق دوران حراست ملزم کی طبیعت خراب ہوئی اور اسے فوری طور پر ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ ادو منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ہسپتال کے ڈاکٹر نے موت کو طبعی قرار دیا اور تشدد کے آثار کی تصدیق نہیں کی۔ملزم کی ہلاکت کی اطلاع پر ورثاء اور اہل علاقہ بڑی تعداد میں ہسپتال کے گیٹ پر جمع ہو گئے اور تھانہ سٹی پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ عمران عرف مانی کی موت پولیس تشدد کے باعث ہوئی، اور انصاف نہ ملنے کی صورت میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا اور اس پر وکلاء، صحافی تنظیموں اور جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کے ایم این ایز میاں ڈاکٹر شبیر علی قریشی اور میاں فیاض حسین چھجڑا نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو درخواست دی، جس پر اسپیکر نے ڈی جی ایف آئی اے سے واقعہ کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ رپورٹ طلب کر لی۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کوٹ ادو نے بھی واقعہ کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے جوڈیشل انکوائری اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔