نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے انتہاپسندی کی زدمیں،مقررین

نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے انتہاپسندی کی زدمیں،مقررین

تعلیم ، میڈیا ،کمیونٹی ، مذہبی اداروں کے ذریعے قابو پایا جاسکتا،احمد خاور

ملتان (وقائع نگار خصوصی)کیتھولک چرچ ملتان میں اساتذہ اور نوجوانوں کے کردار کو بطور صفِ اوّل کے امن ساز اجاگر کرنے کے لئے ایک اہم سیمینار بعنوان اساتذہ اور نوجوان بطور صفِ اوّل کے امن ساز، تعلیم کے ذریعے پُرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام اور قومی یکجہتی کا فروغ منعقد ہوا۔ سیمینار میں مسیحی کمیونٹی، مختلف تعلیمی اداروں کے پرنسپلز و وائس پرنسپلز، اساتذہ، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد خاور شہزاد، ڈی سی او پنجاب نے کہا کہ نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے انتہاپسندانہ مواد کی زد میں آ رہے ہیں، جو ایک سنگین سماجی چیلنج ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے باعث پاکستان کو 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں اور معیشت کو تقریباً 120 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پریوینشن آف وائلنٹ ایکسٹریمزم پالیسی 2024 انتہاپسندی کی بنیادی وجوہات کے خاتمے پر مرکوز ہے ، جس میں تعلیم، میڈیا، کمیونٹی اور مذہبی اداروں کو اہم ستون قرار دیا گیا ہے ۔سیمینار میں اساتذہ اور نوجوانوں کو فرنٹ لائن پیس بلڈرز کے طور پر نیریٹو بلڈنگ کے کردار سے آگاہ کیا گیا۔ حکومتِ پاکستان کے قومی بیانیے پیغامِ پاکستان کے 22 نکات پیش کئے گئے ، جن میں بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق پر زور دیا گیا۔بشپ آف ملتان نے محبت، معافی اور امن کی تعلیمات پر روشنی ڈالی، جبکہ علامہ عبدالحق مجاہد نے اسلام میں رواداری، امن اور اخوت کی اہمیت اجاگر کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں