نشتر:ناکافی سہولیات،شوگر کے مریض دربدر

نشتر:ناکافی سہولیات،شوگر کے مریض دربدر

اینڈوکرائن کیلئے 15بستروں کا اعلان کاغذوں تک محدود،مریضوں کیلئے کوئی علیحدہ بیٹ میسر نہیں ،وارڈ نمبر 11میں علاج کیا جارہا، کورونا وارڈ کو دیئے گئے بیڈ واپس نہ مل سکے نجی سماجی تنظیم 2022تک ذیابیطس کے مریضوں کیلئے امداد دیتی رہی، امداد کی بندش پر مریض بے یارو مددگار ہوگئے ،عملہ بھرتی کیلئے ایم ایس نے خطوط لکھے ، کوئی شنوائی نہ ہوئی

ملتان(لیڈی رپورٹر) نشتر ہسپتال میں شوگر کے باعث مختلف امراض میں مبتلا مریض رل گئے ، اینڈوکرائن کیلئے 15 بستر کاغذوں کی حد تک منظور ہیں جبکہ زمینی حقائق میں مریضوں کیلئے علیحدہ سے کوئی بستر تک موجود نہیں بلکہ وارڈ نمبر 11 میں مریضوں کو داخل کر کے علاج کیا جاتا ہے اس سے قبل بھی محض 15بستر منظور ہوئے تھے تاہم ان بستروں کے حساب سے کوئی عملہ نہیں دیا گیا تھا کورونا کے دوران آئی سو لیشن فیملی وارڈ میں مختص بستروں کو واپس لے لیا گیا جو اب تک واپس نہیں کئے گئے ، جبکہ نجی سماجی ہسپتال کی تنظیم کہ جانب سے 2022 تک معاہدہ کے تحت شوگر میں مبتلا مریضوں کیلئے امداد دی جاتی رہی جس میں انسولین سے لیکر اینڈوکرائن عملے کی تنخواہیں تک شامل تھیں بعدازاں 2022 میں وہ معاہدہ ختم ہوا جس کے بعد 2024 تک امداد ملنا بند رہی اور مریض ایک بار پھر بے یار و مددگار ہو گئے

جبکہ مارچ 2024 میں نشتر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ سے ایک بار پھر ملتان کی نامور سماجی شخصیت نے دس لاکھ روپئے دینے کا وعدہ کیا جس میں ایک لاکھ روپئے تنخواہوں کی مد میں جبکہ نو لاکھ روہے انسولین اور ادویات کی مد میں خرچ کئے جانے تھے تاہم اس کا ایک روپیہ بھی اینڈوکرائن وارڈ کو نہیں دیا گیا، اس دوران چند ڈاکٹرز انسانی ہمدردی کے تحت چند نجی فارما کمپنیوں کے ذریعے کسی نہ کسی طرح اینڈوکرائن کو چلاتے رہے ، تاہم 2024 میں ہی ایک بار پھر اینڈوکرائن وارڈ کو چلانے کیلئے مخیر افراد سے معاہدہ کرنے کی کوشش شروع کی گئی تو یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح طور پر ہدایات دی کہ حکومت کے احکامات کے مطابق کوئی بھی نجی ملازم یا نجی کمپنی سرکاری ہسپتالوں کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتا جس پر اینڈوکرائن ماہرین نے حکومت کی جانب سے اینڈوکرائن کیلئے پہلے سے منظور شدہ 15 بستروں اور اس کے مطابق عملہ بھرتی کرنے کا کہا جس پر اب تک ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے ، بعدازاں ایم ایس نشتر ہسپتال کو اس حوالے یاد دہانی لیٹر لکھے گئے تاہم کوئی سنوائی نہیں ہوئی جبکہ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت جہاں اینڈوکرائن ڈیپارٹمنٹ میں شوگر اور اس سے متعلقہ مریضوں کی تعداد روزانہ 600 کے قریب تھی اب 10 سے 15 مریض تک ا چکی ہے کیونکہ شوگر کی محض ایک دوا گلوکوفیج فراہم کی جا رہی ہے اس کے علاؤہ نہ تو انسولین اور نہ ہی دیگر ادویات فراہم کی جا رہی ہیں ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں