سندھو بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام تونسہ بیراج پر اجتماع

 سندھو بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام تونسہ بیراج پر اجتماع

ماہی گیر کمیونٹیز کو بستیوں سے بے دخل کرنے کے منصوبے کی مذمت

مظفرگڑھ، کوٹ اڈو(نامہ نگار، سٹی رپورٹر ، ڈسٹرکٹ رپورٹر) دریاؤں کے عالمی دن کے موقع پر سندھو بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام تونسہ بیراج پر اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، طلبہ، سرائیکی کارکنان اور صحافیوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے دریا کے کنارے آباد ماہی گیر کمیونٹیز کو بستیوں سے بے دخل کرنے کے منصوبے کی مذمت کی۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سندھو بچاؤ تحریک کے رکن خادم حسین کھر نے کہا کہ موجودہ بستیاں دراصل بیراج کی بحالی کے اس منصوبے کے تحت قائم ہوئیں جسے ورلڈ بینک کی مالی معاونت حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ بے دخلی کا خطرہ پنجاب حکومت کی جانب سے ہے تاہم عالمی بینک کو بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے ۔سرائیکی لوک سانجھ کے کارکن فضل رب اور خاتون رہنما بشیرا مائی نے کہا کہ ماہی گیر کمیونٹیز کی بے دخلی دریائے سندھ کے ماحولیاتی نظام پر حملہ ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ماہی گیروں کو بے دخل کیا گیا تو نایاب انڈس ریور ڈولفن سمیت دریا کی حیاتیاتی تنوع کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔اجتماع کے بعد شرکاء نے بستی شیخان سے دریائے سندھ کے مغربی کنارے تک پیدل مارچ کیا اور دریا کے پانیوں پر پھول نچھاور کر کے ماحولیاتی تحفظ کا عہد کیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ماہی گیر کمیونٹیز کی بے دخلی کے اقدامات بند کرے اور انہیں دریا کے محافظ کے طور پر تسلیم کیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں