15 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ
16جون کو اپن بولی ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور میں ہوگی، ریلوے حکام کی نجی کمپنیوں ، سرمایہ کاروں کو شراکت داری کی پیش کش، فیصلہ ٹرینوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے کیا گیا کامیاب کمپنیوں کو ٹرینوں کے آپریشن، سروسز اور انتظامی امور چلانے کا اختیار ، ریلوے کو مقررہ شیئر یا فیس حاصل ہوگی،ہزارہ ،عوام،فرازم، کراچی ،ملت ،فرید ،زکریا ایکسپریس شامل
ملتان (خصوصی رپورٹر)پاکستان ریلویز کا مزید 15 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ، 16 جون کو اوپن بولی ہوگی تفصیل کے مطابق پاکستان ریلویز نے مالی خسارے میں کمی، سفری سہولیات میں بہتری اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لئے مزید 15 مسافر ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس سلسلے میں پاکستان ریلویز کی جانب سے باقاعدہ اشتہار بھی جاری کردیا گیا ہے جبکہ ٹرینوں کی اوپن بولی 16 جون کو ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور میں ہوگی۔ذرائع کے مطابق ریلوے حکام نے نجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو شراکت داری کی پیشکش کی ہے تاکہ مختلف روٹس پر چلنے والی ٹرینوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔
اوپن بولی کے ذریعے کامیاب کمپنیوں کو ٹرینوں کے آپریشن، سروسز اور انتظامی امور چلانے کا اختیار دیا جائے گا جبکہ ریلوے کو مقررہ شیئر یا فیس حاصل ہوگی۔پاکستان ریلویز کے جاری کردہ اشتہار کے مطابق جن ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے ان میں ہزارہ ایکسپریس، عوام ایکسپریس، فرازم ایکسپریس، کراچی ایکسپریس، ملت ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بہاؤالدین زکریا ایکسپریس، راوی ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس، ٹہل ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس، سکھر ایکسپریس، نارووال پسنجر، سالکوں ایکسپریس اور فیض احمد فیض پسنجر شامل ہیں۔ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس ماڈل کے ذریعے نجی شعبے کے تجربے اور سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تاکہ ٹرینوں کی بروقت آمدورفت، صفائی، کیٹرنگ اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
اس سے قبل بھی بعض ٹرینیں نجی شعبے کے تعاون سے چلائی جا رہی ہیں جن کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا ہے ۔دوسری جانب ریلوے ملازمین اور بعض حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تحفظات بھی سامنے آرہے ہیں۔ ملازمین تنظیموں کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے عمل سے مستقل ملازمین کے مستقبل پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جبکہ نجی شعبے کو زیادہ اختیارات دینے سے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ریلوے حکام کے مطابق بولی کے تمام مراحل شفاف انداز میں مکمل کیے جائیں گے اور کامیاب بولی دہندگان کو قواعد و ضوابط کے مطابق ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔