خستہ حال ریلوے ٹریک ، حادثات معمول
ملتان ڈویژن سے مسافر ٹرینیں، مال گاڑیاں کراچی، لاہور، پشاور ،کوئٹہ کیلئے گزرتی ہیں،دیکھ بھال نہ ہونے سے ٹریک ٹوٹ پھوٹ کا شکار، انسانی غلطیاں بھی حادثات کی وجہ ایک سال کے دوران ٹرینوں کے 135حادثات، 34خراب ٹریک ، 35غیر محفوظ کراسنگز کی وجہ سے پیش آئے ،فوری تبدیلی ضروری، انجینئرز کا موقف
ملتان (خصوصی رپورٹر)بوسیدہ ریلوے ٹریک ملتان ڈویژن میں ٹرین حادثات کی بڑی وجہ، مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں تفصیل کے مطابق پاکستان ریلوے کا ملتان ڈویژن ملک کے اہم ترین ریلوے ڈویژنوں میں شمار ہوتا ہے ، جہاں سے کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ جانے والی بیشتر مسافر اور مال بردار ٹرینیں گزرتی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران اس ڈویژن میں پیش آنے والے متعدد حادثات نے ریلوے ٹریک کی حالت، حفاظتی نظام اور دیکھ بھال کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔سرکاری آڈٹ رپورٹس اور حالیہ انکوائری رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں ٹرین حادثات کی نمایاں وجوہات میں بوسیدہ ریلوے ٹریک، غیر محفوظ لیول کراسنگ، تکنیکی خرابیاں اور انسانی غلطیاں شامل ہیں۔ حالیہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران 135 ٹرین حادثات ریکارڈ کئے گئے ، جن میں 34 حادثات براہِ راست خراب ٹریک جبکہ تقریباً 35 فیصد حادثات غیر محفوظ لیول کراسنگز کی وجہ سے پیش آئے۔
ملتان ڈویژن کے تحت ملتان، خانیوال، لودھراں، ساہیوال اور گردونواح کے متعدد سیکشن مین لائن ون (ML-1) کا حصہ ہیں، جہاں روزانہ درجنوں مسافر اور مال بردار ٹرینیں چلتی ہیں۔ ریلوے انجینئرز کے مطابق بعض مقامات پر پٹریاں اپنی عمر پوری کر چکی ہیں، جبکہ کئی سیکشنز میں مستقل رفتار کی پابندیاں بھی نافذ ہیں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے ۔فروری 2026 میں ہڑپہ ریلوے اسٹیشن کے قریب مال گاڑی کے پٹڑی سے اترنے کے واقعے نے بھی ملتان ڈویژن کے آپریشنل نظام پر توجہ مرکوز کی۔ تحقیقات میں حد رفتار سے تجاوز اور آپریشنل کوتاہی کو بنیادی وجوہات قرار دیا گیا، تاہم ایسے واقعات کے بعد ٹریک کی مجموعی حالت اور حفاظتی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی خصوصی ‘‘ٹرین سیفٹی اینڈ ایکسیڈنٹل لاسز’’ رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ ریلوے ٹریک کی بروقت تجدید، جدید سگنلنگ، حفاظتی نظام اور باقاعدہ معائنے میں تاخیر حادثات کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ لودھراں، ملتان، خانیوال اور شاہدرہ سیکشن پر جدید سگنلنگ منصوبے میں کئی برس کی تاخیر ہوئی، جس کے باعث مطلوبہ حفاظتی فوائد حاصل نہ ہوسکے ۔ریلوے ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں پٹریوں کا پھیلاؤ، بھاری مال بردار ٹرینوں کا دباؤ، پرانے سلیپرز، ویلڈنگ کے مسائل اور بروقت الٹراسونک ٹریک ٹیسٹنگ نہ ہونا بھی ڈی ریلمنٹ کے خطرات بڑھا دیتا ہے ۔دوسری جانب پاکستان ریلوے کا مؤقف ہے کہ مین لائن ون (ML-1) کی اپ گریڈیشن، ٹریک کی تبدیلی، جدید سگنلنگ اور حفاظتی نظام کی بہتری کے منصوبوں پر مرحلہ وار کام جاری ہے ، تاہم مالی وسائل اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اس عمل پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments