پولیس رائٹر اور ساتھیوں کا تشدد، فائرنگ ،الٹا متاثرین گرفتار
مقدمہ درج نہ ہونے پر متاثرہ بھائیوں نے پریس کانفرنس کی تو چار افراد پکڑ لئے
مظفرگڑھ (نامہ نگار)تھانہ صدر کے مقدمات کی مثلیں تحریر کرنے والے پرائیویٹ رائٹر اور اس کے ساتھیوں پر دو بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ متاثرہ بھائیوں کے مطابق واقعہ کے تین روز بعد بھی مقدمہ درج نہ ہونے پر انہوں نے پریس کانفرنس کی، جس کے بعد پولیس نے مدعی فریق کے چار افراد کو حراست میں لے لیا۔تفصیلات کے مطابق دین پور کے علاقے پل اصحاب میں 28 ستمبر کو پاپڑ فروش شہباز اور اس کے درزی بھائی شہزاد پر منصور نامی پرائیویٹ رائٹر اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر تشدد کیا اور فائرنگ کی۔ اہل علاقہ کے جمع ہونے پر ملزمان موقع سے فرار ہوگئے ۔ متاثرین نے 15 پر اطلاع دی، جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی اور گولیوں کے خول بھی قبضے میں لیے ۔ متاثرہ فریق نے تھانہ صدر میں درخواست جمع کرائی، تاہم ان کے مطابق مقدمہ درج نہ کیا گیا اور صلح کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔تین روز بعد شہباز، شہزاد اور ان کے ماموں اجمل نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعدازاں پولیس نے فریقین کو تھانے طلب کیا اور متاثرہ بھائیوں سمیت چار افراد کو دفعہ 107 کی کارروائی کے تحت حراست میں لے لیا، جبکہ مخالف فریق کے دو افراد بھی زیرحراست ہیں۔ اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ پولیس سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم جواب نہیں دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments