کپاس کے زیر کاشت رقبہ میں 50فیصد کمی
2015میں کپاس کا زیر کاشت رقبہ 59لاکھ ایکڑ، 2026میں کم ہوکر 31لاکھ ایکڑ رہ گیا،شعبے کو درپیش بنیادی مسائل، زرعی مداخل مہنگے مارکیٹ میں کم قیمت، پیداواری اخراجات میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیر معیاری بیج، کیڑوں ، بیماریوں کا حملہ ،گنے ،مکئی سے بڑھتی مسابقت شامل
ملتان (جام بابر سے ) دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 7 اکتوبر کو عالمی یوم کپاس منایا جاتا ہے ، سیمینارز اور تقریبات میں کپاس کو ملکی معیشت اور ٹیکسٹائل صنعت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے ، تاہم پاکستان خصوصاً پنجاب میں کپاس کے شعبے کو درپیش بنیادی مسائل بدستور موجود ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کپاس کے زیرکاشت رقبے میں نمایاں اتار چڑھاؤ آیا اور کئی برسوں میں رقبہ و پیداوار دونوں میں کمی دیکھی گئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015-16ء میں پنجاب میں کپاس کا رقبہ تقریباً 59.4 لاکھ ایکڑ تھا، جو 2016-17ء میں 46.8 لاکھ اور 2017-18ء میں 55.7 لاکھ ایکڑ رہا۔ بعد ازاں 2018-19ء میں رقبہ 47.8 لاکھ جبکہ 2020-21ء میں تقریباً 36.7 لاکھ ایکڑ رہ گیا۔ 2024-25ء میں یہ رقبہ تقریباً 32.21 لاکھ جبکہ 2025-26ء میں 31.26 لاکھ ایکڑ ریکارڈ کیا گیا۔ یوں 2015-16ء کے مقابلے میں موجودہ رقبہ تقریباً نصف رہ گیا ہے ۔تحقیقی مطالعات کے مطابق کپاس کے بحران کی وجوہات میں کم قیمت، پیداواری اخراجات میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیرمعیاری بیج، کیڑوں اور بیماریوں کا حملہ، مارکیٹنگ کے مسائل اور گنے و مکئی سے بڑھتا مقابلہ شامل ہیں۔دوسری جانب کپاس پر تحقیق کا سلسلہ جاری ہے ۔ محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بیماریوں، کیڑوں، خشک سالی، گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام کی تیاری پر کام کر رہا ہے ۔ تاہم ماہرین کے مطابق تحقیقی نتائج کو عام کاشتکار تک مؤثر انداز میں پہنچانا، معیاری بیج کی دستیابی، جعلی زرعی ادویات کی روک تھام، بروقت رہنمائی اور فصل کی مناسب قیمت یقینی بنانا ناگزیر ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments