تمام سرکاری و نجی سکول مانیٹرنگ ایپ میں شامل

تمام سرکاری و نجی سکول مانیٹرنگ ایپ میں شامل

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے مانیٹرنگ کے نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے انٹیگریٹڈ یونیفائیڈ مانیٹرنگ ایپ لانچ کر دی،اے ای اوز کیلئے ماہانہ وزٹ لازمی قراردیدیا پہلے راؤنڈ کی تکمیل کے بعد اگر ماہانہ ورکنگ ڈیز باقی ہوں تو تعلیمی معیار اور سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے دوبارہ وزٹ بھی کیا جا سکے گا،اہداف حصول کرنے کاحکم

ملتان(خصوصی رپورٹر)پنجاب کے تمام سرکاری، آؤٹ سورس اور نجی سکول نئی مانیٹرنگ ایپ کے دائرہ کار میں شامل، اے ای اوز کے لئے ماہانہ وزٹ لازمی قرار تفصیل کے مطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر کے سکولوں کی مانیٹرنگ کے نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے انٹیگریٹڈ یونیفائیڈ مانیٹرنگ ایپ لانچ کر دی ہے ، جس کے تحت سرکاری، آؤٹ سورس اور نجی سکولوں کی مانیٹرنگ ایک ہی نظام کے تحت کی جائے گی نوٹیفکیشن کے مطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹوز مینجمنٹ اتھارٹی اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیرانتظام کام کرنے والے تمام سکولوں کو نئے مانیٹرنگ نظام میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ نئی پالیسی کے تحت ہر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر (اے ای او) اپنے مرکز کے تمام سکولوں کی مانیٹرنگ نئی ایپ کے ذریعے کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ ہر سکول کا ماہانہ کم از کم ایک وزٹ لازمی قرار دیا گیا ہے اے ای اوز کو ہر ورکنگ ڈے میں کم از کم ایک سکول کا دورہ کرنا ہوگا۔ پہلے مرحلے میں تمام سکولوں کے وزٹس مکمل کئے جائیں گے ، تاہم مقررہ ہدف پورا کرنے کے لئے ضرورت پڑنے پر ایک ہی دن میں ایک سے زائد سکولوں کا دورہ بھی کیا جا سکے گا پہلے راؤنڈ کی تکمیل کے بعد اگر ماہانہ ورکنگ ڈیز باقی ہوں تو تعلیمی معیار اور سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے دوبارہ وزٹ بھی کیا جا سکے گا ۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف نئی ایپ کے ذریعے ریکارڈ کئے گئے سکول وزٹس ہی قابل قبول ہوں گے ، جبکہ اے ای اوز کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹس کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کی مستند مانیٹرنگ معلومات تصور کیا جائے گا۔دوسری جانب مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اسسٹنٹس کی جانب سے کئے جانے والے وزٹس کو تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔نئے نظام کے تحت اضلاع کی کارکردگی اور رینکنگ کا تعین بھی صرف مانیٹرنگ ایپ میں ریکارڈ کئے گئے وزٹس اور مقررہ کارکردگی کے اشاریوں (انڈیکیٹرز) کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...