پتھر مارکیٹ میں بے ضابطگیاں، لیز مالکان کیخلاف کارروائی کا وسیع

پتھر مارکیٹ میں بے ضابطگیاں، لیز مالکان کیخلاف کارروائی کا وسیع

پتھر مارکیٹ میں بے ضابطگیاں، لیز مالکان کیخلاف کارروائی کا وسیعحفاظتی انتظامات کا فقدان، غیر قانونی ڈیزل ایجنسیوں پر حساس ادارے کی تشویش

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)پتھر مارکیٹ میں چھان بین کے بعد لیز مالکان اور کریشر مالکان کے خلاف مقدمات کے اندراج کا دائرہ وسیع کر دیا گیا، جبکہ نئی تحقیقات میں مزید بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے جس سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ مائنز کے ساتھ ایک حساس ادارے نے بھی حالیہ دنوں مزدوروں کی ہلاکتوں کے تناظر میں تحقیقات کیں، جن میں حفاظتی انتظامات کے فقدان سمیت مختلف نوعیت کی سنگین بے قاعدگیاں سامنے آئیں، جنہوں نے پتھر مارکیٹ کو مسائل کی آماجگاہ بنا رکھا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال پیش آنے والے حادثات کے بعد محکمہ مائنز اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے شروع کی گئی کارروائیاں وقت گزرنے کے ساتھ غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ ارباب اختیار کی چشم پوشی کے باعث کریشنگ مارکیٹ میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور حفاظتی اقدامات نظر انداز ہونے سے کسی بھی وقت مزید حادثے کا خدشہ ہے ۔تحقیقات میں کریشنگ ایریا میں غیر قانونی ڈیزل ایجنسیوں کی بھرمار اور اوورچارجنگ کو بھی تشویشناک قرار دیا گیا ہے ، جہاں پیٹرولیم مصنوعات من مانی قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ مزدوروں کے لیے حفاظتی سہولیات اور مناسب اجرت کا مسئلہ بھی دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق تقریباً 99 فیصد کریشر اور لیز مالکان نے پانی کے چھڑکاؤ کا عمل بھی بند کر رکھا ہے۔ ، جس کے باعث گردوغبار میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماحولیاتی آلودگی سنگین صورت اختیار کر رہی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں