پٹرول پمپوں کے ذریعے لوٹ مار کا انکشاف

پٹرول پمپوں کے ذریعے لوٹ مار کا انکشاف

پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ اور ملاوٹ شدہ پٹرول و ڈیزل کی فروخت بھی سر عام جاری ، ایکسپوزو لائسنس مختلف بے قاعدگیوں کی بناء پر منسوخ کئے جا چکے ہیںانتظامیہ کا حال یہ کہ اصلاحات اور چیک اینڈ بیلنس کی بجائے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے کرپٹ افسران کی ڈھال بنی ہوئی،صورتحال بہترہونے کی بجائے مزید بگڑ رہی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) سرگودھا سمیت مختلف اضلاع میں لائسنسوں کی منسوخی کے باوجود متعلقہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر پیٹرول پمپوں کی موجودگی اور تجدید کے معاملات میں مبینہ کرپشن کے ذریعے لوٹ مار کا انکشا ف ہوا ہے ،یہی نہیں پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ اور ملاوٹ شدہ پٹرول و ڈیزل کی فروخت بھی دھڑلے سے جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق سرگودھا سمیت مختلف شہروں میں سو سے زائد ایسے پٹرول پمپوں کا انکشاف ہوا ہے جن کے ایکسپوزو لائسنس مختلف بے قاعدگیوں کی بناء پر منسوخ کئے جا چکے ہیں جبکہ ان کے پاس متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کا این او سی بھی نہیں مگر یہ متعلقہ کمپنیوں کے نام سے بدستور پٹرولیم مصنوعات فروخت کر رہے ہیں،یہی نہیں مختلف رجسٹرڈ کمپنیوں کے نام سے سمگل اور ملاوٹ شدہ پٹرول و ڈیزل کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند ماہ پہلے وفاقی حکام کی جانب سے حساس ادارے کی رپورٹ کے تناظر میں سرگودھا ڈویژن کے مختلف پٹرول پمپوں کی نشاندہی کی تھی کہ یہ پٹرول پمپ سمگل اور ملاوٹ شدہ پٹرولیم مصنوعات کو پروموٹ کررہے ہیں، جس سے قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ اعلی انتظامیہ کا حال یہ ہے کہ اصلاحات اور چیک اینڈ بیلنس کی بجائے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے کرپٹ افسران کی ڈھال بنی ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منظور نظر ملازمین من پسند سیٹوں پر براجمان ہیں، اور متذکرہ صورتحال بہترہونے کی بجائے مزید بگڑ رہی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں