نہری پانی چوری رشوت کے ریٹ بڑھ گئے
محکمہ انہار کے افسران اور ملازمین کی مبینہ ملی بھگت ،ایک وقت میں فصلیں سیراب کرنے کیلئے مبینہ رشوت کے ریٹ میں تین سے چار ہزار روپے تک اضافہ کر دیا
سرگودھا (سٹاف رپورٹر )سرگودھا سمیت گردونواح میں محکمہ انہار کے افسران اور ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے پانی چوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ کئی علاقوں میں موسم سرما کی وارہ بندیوں کے باوجود پانی کی کمی کو جواز بنا کر ایک وقت میں فصلیں سیراب کرنے کیلئے مبینہ رشوت کے ریٹ میں تین سے چار ہزار روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے ، جو بیلداروں کے ذریعے وصول کیے جاتے ہیں۔ رقم ادا نہ کرنے والے کاشتکاروں کو پانی کی فراہمی میں حق تلفی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ذرائع کے مطابق رواں برس کے پہلے اڑھائی ماہ کے دوران ضلع میں سب سے زیادہ پانی چوری کے کیسز کوٹمومن کے علاقوں میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن کی مجموعی تعداد لگ بھگ 65 سے زائد بتائی جاتی ہے ، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی پانی چوری کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود بیشتر کاشتکاروں کو ٹیل تک پانی کی دستیابی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔دوسری جانب نہر لوئر جہلم اور دیگر برانچوں کے بیسیوں مقامات پر پشتے انتہائی خستہ حال ہو چکے ہیں، تاہم متعلقہ افسران مبینہ طور پر خامیوں پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔چھوٹے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شکایت کرے تو مبینہ ملی بھگت سے اسے دبا دیا جاتا ہے ، جبکہ مقدمات کی زد میں بھی زیادہ تر وہی آتے ہیں جو محکمہ انہار کو مبینہ طور پر راضی نہیں کرتے ۔ کاشتکاروں کے مطابق اس سارے عمل میں کوئی مؤثر چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں، جس کے باعث چھوٹے کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ میں رشوت خوری کو معمول سمجھ لیا گیا ہے اور ارباب اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔