مبینہ زہریلے پانی سے زمینیں متاثر، کاشتکاروں کا احتجاج
مبینہ زہریلے پانی سے زمینیں متاثر، کاشتکاروں کا احتجاج سلانوالی میں زیرِ زمین پانی اور مٹی کے نمونے لیبارٹری بھجوائے گئے تھے
سلانوالی (نمائندہ دنیا)سٹون کریشنگ مارکیٹ کے بعض بااثر لیز ہولڈرز کی جانب سے مبینہ طور پر پہاڑی علاقوں سے زہریلا نمکین پانی چھوڑے جانے کے باعث سینکڑوں ایکڑ زرعی زمینیں متاثر ہو کر ناقابلِ کاشت ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔متاثرہ علاقوں میں گندم، کپاس، کماد اور مکئی جیسی اہم فصلوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے ، جس سے مقامی کاشتکار شدید مالی نقصان کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شکایت سیل کی ہدایت پر محکمہ زراعت نے متاثرہ علاقوں کے زیرِ زمین پانی اور مٹی کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھجوائے تھے ۔
سوئل واٹر اینڈ فرٹیلائزر ٹیسٹنگ لیبارٹری سرگودھا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ زمینیں زہریلے نمکین پانی کے اثرات کے باعث قابلِ کاشت نہیں رہیں۔ مقامی افراد کے مطابق چک نمبر 126 جنوبی کے قریب بعض لیز ہولڈرز نے پہاڑوں کے دامن میں ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کیا ہوا تھا، جس کی مبینہ طور پر مناسب نکاسی کا نظام موجود نہیں تھا۔ الزام ہے کہ گزشتہ سال اور حالیہ عرصے میں ڈیم توڑ کر پانی زرعی زمینوں کی طرف چھوڑا گیا، جس سے فصلیں تباہ ہو گئیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملے پر تھانہ سلانوالی پولیس کی جانب سے محکمہ مائنز اور آبپاشی کے افسران کی درخواست پر مقدمات درج کیے گئے ، تاہم بااثر افراد کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر کاشتکاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔متاثرہ کسانوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی زمینوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی، لیز منسوخی اور مکمل نقصانات کے ازالے کو یقینی بنایا جائے ۔