پتھالوجسٹ کے بغیر چلنے والی غیر قانونی لیبارٹریوں کے خلاف کارروائی تعطل کا شکار

پتھالوجسٹ کے بغیر چلنے والی غیر قانونی لیبارٹریوں کے خلاف کارروائی تعطل کا شکار

تحصیل سرگودھا میں 21، کوٹمومن میں 12، شاہ پور میں 6، ساہیوال میں 12، سلانوالی میں 7جبکہ بھلوال میں 13ایسی لیبارٹریاں موجود ،تمام تجاویز فائلوں تک محدود

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) پبلک ہیلتھ کیٔر کمیشن پنجاب کی جانب سے ضلع بھر میں پتھالوجسٹ کے بغیر چلنے والی غیر قانونی لیبارٹریوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات کے باوجود قانونی دائرہ اختیار واضح نہ ہونے کے باعث کارروائی کا عمل تعطل کا شکار ہوکر رہ گیا ہے ، جس کے نتیجے میں غیر قانونی لیبارٹریاں بدستور کام کر رہی ہیں ذرائع کے مطابق صوبائی محتسب اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسرز ہیلتھ نے ضلع بھر میں سروے کر کے متعدد غیر قانونی لیبارٹریوں کی نشاندہی کی سروے رپورٹ کے مطابق تحصیل سرگودھا میں 21، کوٹمومن میں 12، شاہ پور میں 6، ساہیوال میں 12، سلانوالی میں 7 جبکہ بھلوال میں 13 ایسی لیبارٹریاں موجود ہیں جو مبینہ طور پر رجسٹرڈ پتھالوجسٹ کے بغیر چلائی جا رہی ہیں سروے مکمل ہونے اور رپورٹ متعلقہ حکام کو بھجوانے کے باوجود اب تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ ان غیر قانونی لیبارٹریوں ک خلاف کس قانون کے تحت کارروائی کی جائے اور کون سا ادارہ اس کا مجاز ہوگا۔ اسی قانونی ابہام کے باعث کارروائی کی تمام تجاویز فائلوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں،ذرائع کے مطابق مقامی محکمہ صحت کے افسران نے اس حوالے سے متعدد بار اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر رہنمائی اور واضح گائیڈ لائنز جاری کرنے کی درخواست کی، تاہم تاحال کوئی حتمی ہدایات موصول نہیں ہوئیں، جس کے باعث ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت مؤثر قانونی کارروائی سے گریزاں ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں