سیلاب: بچائو کے انتظامات میں خامیوں کی نشاندہی
شاہپور سے کچھی جاگیر تک بند پر حفاظتی پتھر مو جود نہیں ،مواضعات نون جاگیر، مڈھ اور کنڈاں کے قریب گڑھے ، مڈھ اور کنڈاں کے نزدیک دریائی کٹاؤ میں بھی اضافہ
سرگودھا (سٹاف رپورٹر )ایک جانب ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کیلئے مؤثر اقدامات کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مانیٹرنگ اداروں نے حفاظتی انتظامات میں مبینہ تکنیکی نقائص اور حکمت عملی کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری توجہ کی ضرورت پر زور دیا ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا گیا کہ شاہپور شہر، نتھووالہ، نون جاگیر، مڈھ، یارے والہ، کنڈاں کلاں، کنڈاں خور اور کچھی جاگیر کے تحفظ کے لیے شاہپور شہر سے کچھی جاگیر تک تقریباً 16 سے 17 کلومیٹر طویل حفاظتی بند تعمیر کیا گیا تھا، جس کی اونچائی 8 سے 12 فٹ اور چوڑائی 15 سے 16 فٹ ہے ۔رپورٹ کے مطابق بند کے بیشتر حصے پر حفاظتی پتھر نصب نہیں کیے گئے اور طویل عرصے سے اس کی مرمت بھی نہیں ہوئی، جس کے باعث مواضعات نون جاگیر، مڈھ اور کنڈاں کے قریب بند میں گڑھے پڑ چکے ہیں۔
مزید یہ کہ مڈھ اور کنڈاں کے نزدیک دریائی کٹاؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے ، جس سے حفاظتی بند کی مضبوطی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔اسی طرح تھانہ جھاوریاں کے علاقے موضع میگھ کدھی میں قائم حفاظتی بند، جس کی لمبائی تقریباً 400 سے 500 میٹر بتائی گئی ہے ، کے بارے میں بھی نشاندہی کی گئی کہ سیلاب کے دوران اس کی محدود لمبائی کے باعث پانی اطراف سے گزر کر آبادی میں داخل ہونے کا امکان موجود رہتا ہے ۔مانیٹرنگ اداروں نے سفارش کی ہے کہ ان حفاظتی بندوں کی فوری مرمت، مضبوطی اور توسیع کو یقینی بنایا جائے تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال میں قریبی آبادیوں کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے ۔واضح رہے کہ خبر میں بیان کردہ تکنیکی نقائص اور خدشات مانیٹرنگ اداروں اور ذرائع کی رپورٹس پر مبنی ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کا اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔