اینٹی کرپشن کی کارروائیاں ، سرکاری ملازمین میں چھاپوں کا ڈر
اینٹی کرپشن کی کارروائیاں ، سرکاری ملازمین میں چھاپوں کا ڈرکوئی سائل مبینہ طور پر رقم انکے قریب یا میز پر رکھ کر اینٹی کرپشن کو اطلاع دے سکتا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں کرپشن کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن کی کارروائیوں میں تیزی کے بعد بعض سرکاری ملازمین میں مبینہ طور پر ریڈز کا خوف بڑھنے لگا، ذرائع کے مطابق چھاپے کے خدشے کے باعث بعض ملازمین دفاتر میں کم وقت دینے لگے ہیں جبکہ دفتر آنے والے بعض اہلکار بھی سائلین سے فائل یا دستاویزات براہِ راست وصول کرنے سے گریز کرتے ہوئے دور سے ہی مسئلہ سن کر رہنمائی کرنے لگے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی فیلڈ سرگرمیوں اور پٹواریوں کی دستیابی میں بھی کمی محسوس کی جارہی ہے ، بعض ملازمین کا مؤقف ہے کہ انہیں خدشہ رہتا ہے کہ کوئی سائل مبینہ طور پر رقم ان کے قریب یا میز پر رکھ کر اینٹی کرپشن کو اطلاع دے سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں وہ جائز سرکاری امور انجام دیتے ہوئے بھی احتیاط کی انتہا کرنے پر مجبور ہیں،
صورتحال کا ایک منفی پہلو یہ سامنے آرہا ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائیوں کے خوف کے باعث بعض جگہوں پر عوام کے جائز کام بھی تاخیر کا شکار ہورہے ہیں اور سائلین کو اپنے معمولی نوعیت کے معاملات کے لیے بھی دفاتر کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے لیکن اس کے ساتھ ایسا شفاف اور مؤثر طریقہ کار بھی ضروری ہے جس سے بدعنوان اہلکار قانون کی گرفت میں آئیں اور ایماندار ملازمین بلاخوف اپنی سرکاری ذمہ داریاں ادا کرسکیں، دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی کارروائی سے قبل مکمل تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جاتا ہے ، کسی بے قصور شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی جبکہ عادی درخواست دہندگان کی شکایات کو بھی ہر پہلو سے جانچنے کے بعد ہی قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے ، محکمہ اینٹی کرپشن نے سرکاری ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلاخوف و خطر اپنے فرائض انجام دیں اور شہریوں کے جائز کاموں میں رکاوٹ نہ بنیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments