یوریاکھاد کی مبینہ مصنوعی قلت، منہ مانگے دام وصول

یوریاکھاد کی مبینہ مصنوعی قلت، منہ مانگے دام وصول

بعض مقامات پر مقررہ نرخ سے ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک زائد وصولی کی شکایات ،متعلقہ عملے کی ملی بھگت سے قلت ظاہر کرکے مہنگے داموں کھاد فروخت عملدرآمد کا معیار انسپکشنز کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کر کے سب اچھا کی رپورٹ دینے تک محدود ،قیمت کا بوجھ کاشتکار کی پیداواری لاگت پر پڑے گا، کاشتکار

سرگودھا(نعیم فیصل سے ) بعض ماہرین بارانی علاقوں میں 15اکتوبر سے کاشتکاروں کو گندم بوائی کامشورہ دے رہے ہیں جس کیلئے تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے مگر دوسری طرف ڈویژنل و ضلعی حکام کی عدم توجہی اور ناقص فیلڈ مانیٹرنگ کے باعث کھاد کے حصول کے لیے کاشتکاروں کی آزمائش ابھی سے شروع ہوگئی ہے ، ضلع سرگودھا میں نائٹروفاس اور یوریا کی مبینہ مصنوعی قلت پیدا کرکے منہ مانگے دام وصول کیے جانے لگے ہیں، بعض مقامات پر مقررہ نرخ سے ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک زائد وصولی کی شکایات سامنے آئی ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ویجی لینس ادارے نے قبل ازیں محکمہ زراعت اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی کے دعووں کے برعکس درجن سے زائد ایسے ڈیلرز کی نشاندہی کی تھی جو مبینہ طور پر متعلقہ عملے کی ملی بھگت سے قلت ظاہر کرکے مہنگے داموں کھاد فروخت کر رہے ہیں،باعث تشویش امر یہ ہے کہ حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کا معیار انسپکشنز کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کر کے سب اچھا کی رپورٹ دینے تک محدود ہے ،جبکہ سامنے آنے والی مذکورہ صورتحال حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کے دعووں پر سنجیدہ سوالات پیدا کررہی ہے ، کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ گندم کی بوائی کے حساس مرحلے سے قبل اگر ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور زائد نرخوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو کھاد کی بڑھتی قیمت کا بوجھ براہ راست کاشتکار کی پیداواری لاگت پر پڑے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...