سیوریج کا نظام درہم برہم، متعدد آبادیاں پانی میں ڈوب گئیں
سیوریج کا نظام درہم برہم، متعدد آبادیاں پانی میں ڈوب گئیںگٹروں کے ابلنے اور گندا پانی گلیوں میں پھیلنے سے آمدورفت متاثر ہو رہی
سرگودھا (سٹاف رپورٹر) شہر میں واسا کی مبینہ بدانتظامی کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ سیوریج کی بدترین بندش سے متاثرہ درجنوں آبادیوں کی صورتِ حال کئی روز گزرنے کے باوجود بہتر نہ ہو سکی، جبکہ گلیوں اور راستوں میں جمع بدبودار گندا پانی شہریوں کے لیے عذاب بن گیا ہے ۔ ڈی سلٹنگ اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری کے دعوؤں کے باوجود عملی اقدامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ظفر کالونی، اسلام پورہ، صدیق آباد، منور کالونی، مجاہد کالونی، سیٹلائٹ ٹاؤن اور رحمان پورہ سمیت متعدد علاقوں کے مکین تاحال سیوریج کی بندش کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گٹروں کے ابلنے اور گندا پانی گلیوں میں پھیلنے سے آمدورفت متاثر ہو رہی ہے ، جبکہ تعفن اور گندگی نے شہریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی روز سے اس سنگین صورتِ حال کی نشاندہی کر رہے ہیں، لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گیا ہے ۔دوسری جانب بعض علاقوں میں چند گھروں کے بلوں کی عدم ادائیگی پر پورے علاقے کا سیوریج نظام بند کرنے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے شہری بھی مبینہ طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ڈی سلٹنگ کے عمل پر بھی شہریوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گٹروں سے نکالی گئی سلٹ کئی روز تک سڑکوں اور گلیوں میں پڑی رہتی ہے ، جو دوبارہ نالیوں میں شامل ہونے کے علاوہ بدبو اور گندگی کا سبب بنتی ہے ۔
شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر صفائی اور ڈی سلٹنگ کا کام باقاعدگی سے جاری ہے تو سیوریج کی بندش میں کمی کے بجائے اضافہ کیوں ہو رہا ہے اور متعلقہ عملے کی کارکردگی کی نگرانی کون کر رہا ہے ؟شہریوں نے واسا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر نکاسی آب بحال کی جائے ، گٹروں اور نالیوں کی مؤثر صفائی کے ساتھ نکالی گئی سلٹ بھی فوری اٹھائی جائے اور ڈی سلٹنگ سے متعلق رپورٹس کی موقع پر جا کر جانچ کی جائے ۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتِ حال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واسا حکام وضاحتوں اور کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے شہریوں کو ریلیف فراہم کریں اور غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہونے پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments