پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت

پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی کو  شوہر کیساتھ جانے کی اجازت

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی سے متعلق کیس میں ماریہ کو اپنے شوہر شہریار کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جبکہ لڑکی کے والدین کو مبینہ جعلی نکاح کے معاملے پر متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔۔۔

کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران ماریہ نے عدالت کو بتایا کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے شہریار سے شادی کی ہے ۔ لڑکی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بالغ ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی مکمل اہل ہے ۔لڑکی کے والدین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ماریہ کی عمر صرف بارہ سال ہے اور کم سن بچی کا نکاح قانوناً ممکن نہیں۔ وکیل کے مطابق پیش کردہ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح غیر قانونی ہے ، اس لیے لڑکی کو والدین کے حوالے کیا جائے ۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم دس سال کی تاخیر سے حاصل کیے گئے ہیں، جبکہ بظاہر لڑکی بارہ سال کی نہیں لگتی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ماریہ مسلسل خود کو بالغ ظاہر کر رہی ہے ۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ماریہ نے مجسٹریٹ کے روبرو دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا ہے جس میں اس نے اغوا کے الزام کی تردید کی۔ عدالت کے مطابق لڑکی کی شادی کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اس نے شادی سے قبل اسلام قبول کیا تھا۔تمام حقائق، بیانات اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی سے متعلق درخواست نمٹا دی اور ماریہ کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جبکہ والدین کو نکاح کی قانونی حیثیت کے تعین کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں