لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے اغوا کا دعویٰ غلط ، نکاح کا انکشاف

 لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے  اغوا کا دعویٰ غلط ، نکاح کا انکشاف

لاہور (کرائم رپورٹر)لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے مبینہ اغواء کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پولیس تفتیش کے دوران اغواء کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا۔

پولیس کے مطابق عائشہ ریاض کے والد کی مدعیت میں قلعہ گجر سنگھ تھانے میں اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ایس ڈی پی او سول لائنز کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے شواہد اکٹھے کیے ۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کو اغواء نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا۔ عائشہ کے بیان کے مطابق اس نکاح میں ان کے اہل خانہ کی رضامندی شامل نہیں تھی اور گھر والے انہیں زبردستی طلاق (خلع) لینے پر مجبور کر رہے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ اغواء کا مقدمہ دراصل ذاتی رنجش اور نکاح پر ناراضی کی بنیاد پر درج کروایا گیا تھا۔ پولیس ترجمان کے مطابق کیس کے حقائق سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی کا رخ تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ایس پی سول لائنز چودھری اثر علی نے بتایا کہ عائشہ ریاض 11 اپریل کو ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئیں، جس پر انہیں محکمانہ طور پر غیر حاضر قرار دیا گیا تھا۔ معاملے کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں