لاہور ہائیکورٹ کا انڈر گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ روکنے کا حکم
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو روک دیا۔
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مین ہول میں ماں بیٹی کی گر کر جاں بحق ہونے پر بہت افسوس ہے، عدالت حکم کے باوجود پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی نہ روکنے پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، عدالت کو ماحولیاتی کمیشن کے ممبرز سید کمال حیدر اور میاں عرفان اکرم کی جانب سے بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے باجوہ پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی گئی جو توہین عدالت کے مترداف ہے۔
دوران سماعت وکیل اظہر صدیق نے نشاہدہی کرتے ہوئے کہا کہ داتا صاحب کے اطراف سے درختوں کو کاٹنے کی نشاہدہی کی، یہ درختوں کی جان تو لے رہے تھے اب ایک ماں اور ننھی بچی کی جان لے لی ہے، دو روز قبل ماں اور بیٹی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئیں۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ یہ بہت افسوسناک سانحہ ہوا ہے، عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو روکتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
دوران سماعت عدالت نے پنجاب یونیورسٹی سے درختوں کی کٹائی پر بھی برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی پی ایچ اے نے ابتک کیا کیا ہے، ایک میٹنگ نہیں کی، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی پر ڈی جی پی ایچ اے کو خود نوٹس لینا چاہیے تھا مگر پی ایچ اے کا رول نظر نہیں آیا۔
عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی والا معاملہ اینٹی کرپشن کو بھی بھیجے گے، عدالت نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا جبکہ عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو بھی عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے 2 فروری تک سماعت ملتوی کردی۔