لاہور میں بسنت منانے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں پورے صوبے کے بجائے صرف لاہور میں بسنت منانے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری ہوم کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے شہری اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتی سرپرستی میں بسنت منانے کے لیے قانون بنایا گیا ہے اور حکومتی مشینری صرف لاہور میں بسنت منانے کے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ صوبے کے دیگر شہروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
وکیل نے کہا کہ آئین کے تحت تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور عوام کا پیسہ صرف ایک شہر میں بسنت فیسٹیول پر خرچ کیا جا رہا ہے، لہٰذا حکومت کو بلا تفریق پورے صوبے میں بسنت فیسٹیول کے لیے اقدامات کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا اور سپیشل سیکرٹری ہوم کو تین فروری کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی کے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر بھی سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ گانے نک دا کوکا میں فحاشی یا کوئی قابلِ اعتراض مواد موجود نہیں، تاہم حکومت نے بلاجواز اسے فحش گانوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کی تصاویر والی پتنگیں اڑانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جو غیر ضروری ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ملک اویس خالد نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار یہ گانا گنگناتا ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزار کا تو معلوم نہیں، لیکن میں خود یہ گانا گا سکتا ہوں، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل کی آواز تو ویسے بھی کافی سریلی ہے جبکہ پابندی صرف فحش گانوں پر لگائی گئی ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں درخواستوں پر 2 فروری تک جواب طلب کر لیا۔