نیویارک کے بورڈ آف ججز کے مقرر کردہ نئے امریکی اٹارنی ڈونلڈ کنسیلا برطرف
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی محکمہ انصاف نے نیویارک کے لیے ججوں کی جانب سے مقرر کیے گئے نئے امریکی اٹارنی ڈونلڈ کنسیلا کو برطرف کر دیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مطابق یہ پیش رفت اسی روز سامنے آئی جب وفاقی ججوں نے ان کی تقرری کا اعلان کیا تھا، نیویارک کے بورڈ آف ججز نے ایک تقریب کے دوران ڈونلڈ کنسیلا کو جان سارکون کی جگہ تعینات کیا، جو عبوری بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے تھے لیکن عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیئے گئے تھے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھاکہ آپ برطرف ہیں، ڈونلڈ کنسیلا امریکی اٹارنی جج نہیں، کنسیلا سے فوری طور پر رابطہ ممکن نہ ہو سکا، وہ فوجداری اور دیوانی مقدمات میں دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں اور اس سے قبل اسسٹنٹ امریکی اٹارنی اور محکمہ انصاف میں فوجداری شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
گزشتہ ماہ ایک وفاقی جج نے قرار دیا تھا کہ جان سارکون ریاست نیویارک میں اعلیٰ وفاقی پراسیکیوٹر کے طور پر غیر قانونی طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور انہیں ریاستی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کے خلاف تحقیقات میں مداخلت سے روک دیا تھا۔
محکمہ انصاف نے اس سے قبل مختلف انتظامی اقدامات کے ذریعے سارکون کو عبوری امریکی اٹارنی برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی، تاہم عدالتوں نے ان اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا۔
,،واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انسانی حقوق اور سیاسی ماہرین کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے جو الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کی انتظامیہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔
اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز، جو ڈیموکریٹ رہنما اور ٹرمپ کی نمایاں ناقد ہیں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات دراصل ٹرمپ کے خاندانی کاروبار کے خلاف قانونی کارروائی کا بدلہ ہیں۔