درخت کاٹنے والوں کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں: جسٹس شاہد کریم

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ درختوں کو کاٹنے والے ملزمان کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں۔

عدالت نے درختوں سے متعلق جامع پالیسی بنانے کی رپورٹ آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے دوران ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کمیشن کی سربراہی میں درختوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ طے پایا کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل کمیشن سے مشاورت کی جائے گی۔

جسٹس شاہد کریم نے پی ایچ اے کے وکیل بیرسٹر حارث عظمت کے تاخیر سے پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ وکیل پیش نہیں ہو سکتے تو ادارے کی جانب سے کوئی اور نمائندہ عدالت میں پیش ہو، عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے کا رویہ انتہائی قابل افسوس ہے۔

دوران سماعت پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا، یونیورسٹی کے وکیل نے بتایا کہ شیخ زید سینٹر سے 60 بڑے درخت کاٹے جانے کے معاملے پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، یونیورسٹی میں اب تک پانچ سو درخت لگائے جا چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ نئے درخت لگانے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ واضح عدالتی احکامات کے باوجود درختوں کی کٹائی تشویشناک ہے، پنجاب یونیورسٹی جیسے تاریخی ادارے میں میاواکی طرز پر جنگل لگایا جائے۔

پی ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درختوں کی کٹائی پر مقررہ سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ملزمان فوری ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں، اس پر عدالت نے کہا کہ جب تک ضمانتیں ہوتی رہیں گی درختوں کی کٹائی نہیں رکے گی، عدالت نے استفسار کیا کہ پراسکیوٹر جنرل پنجاب سے بات کی جائے کہ ضمانتیں کیسے ہو رہی ہیں اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت دی جائے کہ قانون میں ترمیم کر کے ناقابل ضمانت دفعات شامل کی جائیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ یہ کارروائی کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مفاد میں کی جا رہی ہے، عدالت نے 16 فروری کو عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں