دوحہ میں ایران سے ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دوحہ میں ایران کے ساتھ ہونے والی ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو، ہمیں معلوم ہو جائے گا۔
واشنگٹن میں اپنی صدارتی رہاش گاہ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے حوالے سے اجلاس دوحہ میں ہو گا لہٰذا ہم دیکھیں گے کہ یہ معاملہ کس طرف جاتا ہے۔
ٹرمپ نے ایک طرف تو یہ کہا کہ ہم اس محاذ پر بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو۔
صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عسکری طور پر ہم جیت رہے ہیں، بلکہ میں تو کہوں گا عسکری طور پر ہم جیت چکے ہیں، سادہ سی بات ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہو، اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ (ایرانی) اس پر رضا مند بھی ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں طے شدہ ٹیکنیکل مذاکرات کے حوالے سے گزشتہ روز دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیان سامنے آئے تھے۔
ایک جانب امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران نے ایک ملاقات کی درخواست کی ہے، جو کل دوحہ میں ہو گی۔
دوسری جانب ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے آج ہونے والے مذاکرات کی تردید کی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ آئندہ چند روز میں کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔
اس کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے کے اعلیٰ سطح اجلاسوں میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔