اس پر اتفاق نہیں کرتا عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی: جسٹس علی باقر نجفی

لاہور:(دنیا نیوز) وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی اِس بات پر اتفاق نہیں کرتا کہ عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی۔

وفاقی دارالحکومت میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کا وجود 14 نومبر 2025 کو ہوا، ایک ہفتے میں اس کورٹ نے کام کا آغاز کردیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے ابھی تک 2600 کیسز کے فیصلے کیے، آئینی عدالت میں جو بھی کیس دائر ہوتا ہے کوشش کرتے ہیں کہ جلد فیصلہ کرے، آئینی عدالت کا قیام دنیا کی کوئی دُکھی چیز نہیں ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت سے پہلے آئینی بینچ کام کررہا تھا، عدالت کے قیام کی دس وجوہات ہوسکتی ہیں، ایک وجہ جوڈیشل ایکٹوازیم بھی ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ نے بہت سے کیسز کے فیصلے اپنے اختیار سے باہر جا کر کیے گئے۔

آئینی عدالت کے جج نے کہا کہ یہ بھی الزام تھا کہ جوڈیشری نے پالیسی سازی میں مداخلت شروع کردی ہے، یہ بھی کہا گیا کہ کیسز قانون کے مطابق حل کرنے کی بجائے دیگر معاملات پر حل کیے گیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک بہت بڑی ڈبیٹ چل رہی ہے، ایک عنصر دوہرا معیار بھی ہوسکتا ہے، ایک عنصر یہ بھی ہے کہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کیلیے پاپولر فیصلہ کرنا ہے، ایک عنصر یہ بھی تھا کہ سٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا ہے کہ سٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، اِس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی ہے، میں نے سات ماہ سپریم کورٹ میں فوجداری نوعیت کا کام کیا۔

آئینی عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ سپریم کورٹ میں قتل کی اپیلیں سالوں سے زیر التوا تھیں،اس کی وجہ یہ تھی کہ ججز پر آئے روز آئینی معاملات میں الجھے ہوتے ہیں، اب یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہوجائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں