میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کو دھمکیوں کا نوٹس لے لیا
کراچی: (دنیا نیوز) میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کو دھمکیوں اور ہراسانی کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو ڈاکٹر سمیعہ کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
تحریری حکم نامے کے مطابق کمیشن کی کارروائی میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ اور ایس ایچ او عدیل افضال کے بیانات ریکارڈ کئے گئے، ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق پہلے پوسٹ مارٹم سے اختلاف کرنے پر انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے سچ بول کر اپنا کیریئر خطرے میں ڈالا۔
ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ ایک دن گھر جاتے ہوئے دو موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے انہیں ہراساں کیا گیا، انہوں نے ڈی آئی جی عامر فاروقی کے دھمکی آمیز رویے اور نتائج پر اثر انداز ہونے کی شکایت بھی کی، تاہم پولیس سکیورٹی لینے سے انکار کردیا۔
کمیشن نے قرار دیا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کو کمیشن کے سامنے پیشی کے موقع پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی گئی کہ ڈاکٹر سمیعہ کی شکایت وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ کے نوٹس میں لائی جائے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر سمیہ نے سوشل میڈیا پر بدنام کرنے اور رہائشی پتہ عام کرنے کی بھی شکایت کی، کمیشن کو اسکرین شاٹس اور تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔
ڈاکٹر سمیعہ نے این سی سی آئی اے کو شکایت درج کروائی ہے، کمیشن نے اہم گواہ کو ہراساں کئے جانے کے معاملے پر این سی سی آئی اے کو ترجیحی بنیادوں پر معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی۔
کمیشن نے جبران ناصر کا پولیس سرجن کی جانب سے آئینی درخواست سے متعلق رضاکارانہ بیان بھی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا، تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ جبران ناصر کا بیان کسی تضاد سے پاک ہے۔
تفتیشی افسر سراج لاشاری نے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ کی شکایت سے متعلق عبوری رپورٹ پیش کی، کمیشن نے مکمل رپورٹ کے لئے تفتیشی افسر کو مزید وقت دے دیا۔
کمیشن نے بزنس پارٹنر احمد کے مختلف پوڈکاسٹ میں کمیشن سے متعلق شکایت کا بھی نوٹس لیا، احمد نے شکایت کی کہ انہیں کمیشن کے سامنے بہت کچھ بتانے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم کمیشن کے مطابق بزنس پارٹنر احمد کو سوا دو گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا اور مزید معلومات کی فراہمی کے لئے موقع بھی دیا گیا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اصل حقائق اور حالات جاننے کے لیے احمد بھردے کو اپنا سابقہ بیان مزید بڑھانے کی اجازت دی جانی چاہئے، بزنس پارٹنر احمد کو 17 ستمبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کردیا گیا۔
کمیشن نے قرار دیا کہ احمد کے وکیل کی جانب سے انٹرویوز میں کمیشن کی کارروائی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، احمد کو پیش ہوکر وضاحت دینے کی ہدایت کی گئی کہ وکیل کے بیانات ان کی ہدایت پر دیئے گئے یا ان کی ذاتی رائے تھی۔
کمیشن نے میر رضا کی والدہ کے بارہا تاخیر سے پہنچنے کا بھی نوٹس لیا، میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ وہ نجی بینک میں سینئر وائس پریذیڈنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔
کمیشن نے نجی بینک کے سی ای او سے درخواست کی کہ میر رضا کی والدہ کو اجلاس میں شرکت کے لئے صبح 10 بجے رخصت ہونے کی اجازت دی جائے اور جلدی رخصت کے لئے ان کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کی جائے، کمیشن نے امید ظاہر کی کہ بینک کے سی ای او درخواست پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے احکامات جاری کریں گے۔
بیلف نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے پارٹنر احسان انیس شمسی روس میں موجود ہیں جبکہ عثمان بزئی سے متعلق بتایا گیا کہ وہ گوجرانوالہ میں محکمانہ کورس میں شرکت کے لئے موجود ہیں۔
کمیشن نے رجسٹرار کو عثمان بزئی کو وڈیو لنک یا واپسی پر ذاتی طور پر پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی، کمیشن نے سی آئی اے کے انسپکٹر محمد علی کو بھی 15 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کردیا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق انسپکٹر محمد علی سی آئی اے کی جانب سے بھیجے گئے یا موصول تمام خطوط کا ریکارڈ ساتھ لائیں گے، کمیشن کا آئندہ اجلاس 15 ستمبر کو ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments