آسٹریلیا میں اونٹوں کی ریس، ینگ گن نامی اونٹ نے ٹائٹل جیت لیا

کینبرا: (ویب ڈیسک) آسٹریلیا کے دور افتادہ صحرائی قصبے میری میں سالانہ میری آسٹریلین اونٹ کپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں تیز رفتار اور کچھ غصیلے مزاج رکھنے والے اونٹوں کی دلچسپ دوڑ نے شائقین کو خوب محظوظ کیا۔

جنوبی آسٹریلیا کے دارالحکومت ایڈیلیڈ سے تقریباً 600 کلومیٹر دور واقع قصبے میری میں منعقد ہونے والے اس منفرد ایونٹ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، جبکہ مجموعی طور پر 13 ریسز کا انعقاد کیا گیا جن میں ایک درجن سے زائد اونٹ میدان میں اترے۔

صرف 65 افراد کی آبادی رکھنے والا یہ چھوٹا سا قصبہ ہر سال اونٹ ریس کے موقع پر شائقین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

منتظمین کے مطابق آسٹریلیا میں اونٹ 19ویں صدی کے وسط میں متعارف کرائے گئے تھے، 1840 کے بعد 10 ہزار سے زائد اونٹ ملک میں لائے گئے، تاہم ریلوے نظام اور موٹر گاڑیوں کی آمد کے بعد ان میں سے کئی اونٹ جنگلوں میں چھوڑ دیے گئے۔

اونٹوں کی تربیت کرنے والی کیرالی ووڈ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ریس کے لیے ایسے اونٹ منتخب کیے جاتے ہیں جن میں رفتار کے ساتھ کچھ جوش اور تیز مزاجی بھی ہو، ان کے بقول بہترین ریسنگ اونٹ وہ ہوتا ہے جو محتاط ہونے کے ساتھ پرجوش بھی ہو اور جیتنے کا جذبہ رکھتا ہو، بالکل ایک ریس کے گھوڑے کی طرح۔

اس سال میری آسٹریلین اونٹ کپ کا ٹائٹل "ینگ گن" نامی اونٹ نے اپنے نام کیا، جسے پیٹرک ڈینس نے کامیابی سے دوڑایا۔

حکام کے مطابق آسٹریلیا میں جنگلی اونٹوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے، جو بعض علاقوں میں خوراک، پانی کے ذخائر اور ماحولیاتی نظام کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں، اگر ان کی تعداد پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ہر آٹھ سال بعد دگنی ہو سکتی ہے۔

آسٹریلیا محدود تعداد میں زندہ اونٹ دیگر ممالک، خصوصاً ملائیشیا اور انڈونیشیا، کو بھی برآمد کرتا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں